ہاں! بعد وضوحِ حق (1) اگر فقط اس وجہ سے کہ یہ بات میں نے کہی اور وہ اَگلے کہہ گئے تھے، میری نہ مانیں اور وہ پرانی بات گائے جائیں تو قطع نظر اِس کے کہ قانونِ محبتِ نبوی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ بات بہت بعید ہے، ویسے بھی اپنی عقل و فہم کی خوبی پر گواہی دینی ہے۔'' (2)
یہیں سے ظاہر ہو گیا جو معنی اس نے تراشے، سلف میں کہیں اُس کاپتا نہیں اور نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک جو سب سمجھے ہوئے تھے اُس کو خیالِ عوام بتا کر رد کر دیا کہ اِس میں کچھ فضیلت نہیں، اِس قائل پر علمائے حرمین طیبین نے جو فتویٰ دیا وہ ''حُسّامُ الحرمَین'' (3) کے مطالعہ سے ظاہر اور اُس نے خود بھی اسی کتاب کے صفحہ ۴۶ میں اپنا اسلام برائے نام تسلیم کیا۔ (4)
ع مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
اِن نام کے مسلمانوں سے اﷲ (عزوجل) بچائے۔