صفحہ ۱۶: ''بلکہ بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو، جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔'' (1)
صفحہ ۳۳: ''بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیتِ محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا، چہ جائیکہ آپ کے مُعاصِر (2) کسی اور زمین میں، یا فرض کیجیے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے۔'' (3) لطف یہ کہ اِس قائل نے اِن تمام خرافات کا ایجادِ بندہ ہونا خود تسلیم کرلیا۔
صفحہ ۳۴ پر ہے: ''اگر بوجہِ کم اِلتفاتی بڑوں کا فہم کسی مضمون تک نہ پہنچا تو اُن کی شان میں کیا نقصان آگیا اور کسی طفلِ نادان (4) نے کوئی ٹھکانے کی بات کہہ دی توکیا اتنی بات سے وہ عظیم الشان ہو گیا...؟! ؎
گاہِ باشد کہ کو دکِ ناداں
بغلط برہدف زنَد تِیرے(5)