| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
پہلے تو اس قائل نے خاتم النبیین کے معنی تمام انبیا سے زماناً متاخّر ہونے کو خیالِ عوام کہا اور یہ کہا کہ اھلِ فہم پر روشن ہے کہ اس میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔ حالانکہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خاتم النبیین کے یہی معنی بکثرت احادیث میں ارشاد فرمائے (1) تو معاذ اﷲ اس قائل نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو عوام میں داخل کیا اور اھلِ فہم سے خارج کیا، پھر اس نے ختمِ زمانی
کو مطلقاً ۱ ؎ فضیلت سے خارج کیا، حالانکہ اسی تاخّرِ زمانی کو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے مقامِ مدح میں ذکر فرمایا۔
پھر صفحہ ۴ پر لکھا: ''آپ موصوف بوصفِ نبوت بالذات ہیں اور سِوا آپ کے اور نبی موصوف بوصفِ نبوت بالعرض۔'' (2)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ عن أبي ہریرۃ رضي اللہ عنہ، أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:((إنّ مثلي ومثل الأنبیاء من قبلي کمثل رجل بنی بیتاً فأحسنہ وأجملہ إلاّ موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ھلاّ وضعت ہذہ اللبنۃ قال فأنا اللبنۃ وأنا خاتم النبیین)).
''صحیح البخاري''، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین، ج۲، ص۴۸۴، الحدیث: ۳۵۳۵۔
وفي روایۃ: عن ثوبان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنّہ سیکون في أمتي ثلا ثون کذابون کلّھم یزعم أنّہ نبي وأنا خاتم النبیین لا نبي بعدي)).
''سنن الترمذي''، کتاب الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون، الحدیث: ۲۲۲۶، ج۴، ص۹۳.
وفي روایۃ: عن حذ یفۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنا خاتم النبیین لا نبي بعدي)).
''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۳۰۲۶، ج۳، ص۱۷۰.
وفي روایۃ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یا فاطمۃ ونحن أھل بیت قد أعطانا اللہ سبع خصال لم یعط أحد قبلنا، ولا یعطی أحد بعدنا، أنا خاتم النبیین... إلخ)).
''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۲۶۵۷، ج۳، ص۵۷۔
وفي روایۃ: عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال:(( أنا قائد المرسلین ولا فخر، وأنا خاتم النبیین ولا فخر)).
''المعجم الأوسط''، للطبراني، ج۱، ص۶۳، الحدیث: ۱۷۰۔
۱ ؎ ۔۔۔۔۔۔ پہلے تو بالذات کا پردہ رکھا تھا پھر کھیل کھیلا کہ اسے مقامِ مدح میں ذکر کرنا کسی طرح صحیح نہیں تو ثابت ہوا کہ وہ اصلاً کوئی فضیلت نہیں۔ ۱۲ منہ
2۔۔۔۔۔۔ ''تحذیر الناس''، خاتم النبیین کا معنی، ص۶:Bahaar-e-Shareeat-1 Qadyani (228).gif