Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
227 - 278
چنانچہ ''تحذیر الناس'' ص ۲ میں ہے: 

    ''عوام کے خیال میں تورسول اﷲ صلعم ۱ ؎ (1) کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے بعد اور آپ سب میں

آخر نبی ہیں، مگر اھلِ فہم پر روشن ہو گا کہ تقدّم یا تاخّر میں بالذات کچھ فضیلت نہیں، پھر مقامِ مدح میں
(وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ)ـ2ـ
فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے؟ ہاں! اگر اِس وصف کو اَوصافِ مدح میں سے نہ کہیے اور اِس مقام کو مقامِ مدح نہ قرار دیجیے تو البتہ خاتمیت باعتبارِ تاخّرِ زمانی صحیح ہوسکتی ہے۔'' (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

=    وفي ''الشفاء''، فصل في بیان ما ہو من المقالات کفر، الجزء الثاني، ص۲۸۵: (کذ لک من ادعی نبوۃ أحد مع نبینا صلی اللہ علیہ وسلم أو بعدہ (إلی قولہ) فھؤلاء کلھم کفار مکذبون للنبي صلی اللہ علیہ وسلم؛ لأنہ أخبر صلی اللہ علیہ وسلم أنّہ خاتم النبیین لا نبي بعدہ وأخبر عن اللہ تعالی أنّہ خاتم النبیین).

    وفي ''المعتقد المنتقد''، ص۱۲۰:(الحجج التي ثبت بہا بطریق التواتر نبوتہ ثبت بہا أیضاً أنّہ آخر الأنبیاء في زمانہ وبعدہ إلی یوم القیامۃ لا یکون نبي، فمن شک فیہ یکون شاکاً فیہا أیضاً، وأیضاً من یقول إنّہ کان نبي بعدہ أو یکون، أو موجود، وکذا من قال یمکن أن یکون فہو کافر، ھذا شرط صحۃ الإیمان بخاتم الأنبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم). 

۱ ؎ ۔۔۔۔۔۔ ہم کہتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم۔ ۱۲

1۔۔۔۔۔۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پاک کے ساتھ صلعم لکھنا یا صرف ص لکھنا ناجاءز و حرام ہے جیسا کہ ''حاشیۃ الطحطاوی '' میں ہے: 

     (ویکرہ الرمز بالصلاۃ والترضي بالکتابۃ، بل یکتب ذلک کلہ بکمالہ، وفي بعض المواضع عن ''التتارخانیۃ'': من کتب علیہ السلام بالھمزۃ والمیم یکفر؛ لأنّہ تخفیف وتخفیف الأنبیاء کفر بلا شک ولعلہ إن صحّ النقل فھو مقید بقصدہ وإلاّ فالظاھر أنّہ لیس بکفر وکون لازم الکفرکفراً بعد تسلیم کونہ مذھباً مختاراً محلہ إذا کان اللزوم بینا نعم الاحتیاط في الاحتراز عن الإیہام والشبہۃ). ''حاشیۃ الطحطاوي'' علی ''الدر المختار''، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۶۔

     و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۶، ص۲۲۱ ۔ ۲۲۲، ج۲۳، ص۳۸۷۔۳۸۸. 

2۔۔۔۔۔۔ پ ۲۲، الأحزاب:۴۰.

3۔۔۔۔۔۔ ''تحذیر الناس''، خاتم النبییّن کا معنی، ص۴ ۔ ۵.
Bahaar-e-Shareeat-1 Qadyani (227).gif
Flag Counter