Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
226 - 278
بلکہ اُن کے ایک سرغَنہ نے تو اپنے ایک فتوے میں لکھ دیا کہ: ''وقوعِ کذب کے معنی درست ہوگئے، جو یہ کہے کہ اﷲ تعالیٰ جھوٹ بول چکا، ایسے کو تضلیل و تفسیق سے مامون کرنا چاہیے'' ۔(1)

    سبحان اﷲ...! خدا کو جھوٹا مانا، پھر بھی اسلام و سنّیت و صلاح کسی بات میں فرق نہ آیا، معلوم نہیں ان لوگوں نے کس چیز کو خدا ٹھہرا لیا ہے! 

    ایک عقیدہ ان کا یہ ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بمعنی آخر الانبیاء نہیں مانتے۔(2) اور یہ صریح کفر ہے۔(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    في''تفسیر الکبیر''، ج۶، ص ۵۲۱: (المؤمن لا یجوز أن یظن باللہ الکذب، بل یخرج بذلک عن الإیمان). 

     في ''شرح المقاصد''، المبحث السادس في أنّہ تعالی متکلم: (الکذب محال بإجماع العلماء،؛ لأنّ الکذب نقص باتفاق العقلاء وہو علی اللہ تعالی محال اھ)، ملخصاً.

    یعنی: جھوٹ باجماع علماء محال ہے کہ وہ باتفاق عقلاء عیب ہے اور عیب اللہ تعالی پر محال اھ. ملخصاً.

    وفي مقام آخر: (محال ہو جھلہ أو کذبہ تعالی عن ذلک) 

    یعنی: اللہ تبارک وتعالی کا جھل یا کذب دونوں محال ہیں برتری ہے اسے ان سے۔

    وفي شرح عقائد نسفیہ: (کذب کلام اللہ تعالی محال اھ) ملخصاً یعنی: کلام الہی کا کذب محال ہے اھ ، ملخصاً.

    وفي ''طوالع الأنوار'': (الکذب نقص والنقص علی اللہ تعالی محال اھ). یعنی: جھوٹ عیب ہے اور عیب اللہ تعالی پر محال۔ 

    وفي ''المسامرۃ'' بشرح '' المسایرۃ''، ص۲۰۵: (وہو) أي: الکذب (مستحیل علیہ) تعالی (لأنّہ نقص).

    یعنی: اور جھوٹ اللہ تعالی پر محال ہے اس لیے کہ یہ عیب ہے. 

    وفي مقام آخر، ۳۹۳: (یستحیل علیہ سبحانہ سمات النقص کالجھل والکذب). 

    یعنی: جتنی نشانیاں عیب کی ہیں جیسے جھل وکذب سب اللہ تعالی پر محال ہیں۔

    مزید تفصیل کے لیے شیخ الاسلام والمسلمین اعلی حضرت عظیم المرتبت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا ''فتاوی رضویہ'' میں دیا گیا رسالہ: ''سبحن السبوح عن کذب عیب مقبوح ''، ج۱۵ کا مطالعہ کریں ۔

1۔۔۔۔۔۔ یہ الفاظ اس نے اپنے ایک فتوے میں کہے تھے، اگر کسی کو یہ عبارت دیکھنی ہو تو ہندوستانی حضرات ، پیلی بھیت اور پاکستانی حضرات دارلعلوم حزب الاحناف لاہور میں تشریف لے جاکر اطمینان کرسکتے ہیں۔ 

2۔۔۔۔۔۔ ''تحذیر الناس''، خاتم النبییّن کا معنی، ص۴ ۔ ۵. 

3۔۔۔۔۔۔ في'' الفتاوی الہند یۃ''،کتاب السیر، الباب التاسع فيأحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۳:(سمعت بعضھم یقول: إذا لم یعرف الرجل أنّ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم آخر الأ نبیاء علیھم وعلی نبینا السلام فلیس بمسلم کذا في ''الیتیمۃ''). =
Flag Counter