Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
225 - 278
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    یعنی: میں (اسماعیل دھلوی)کہتا ہوں : اگر محال سے مراد ممتنع لذاتہ ہے کہ (جھوٹ) اللہ کی قدرت کے تحت داخل نہیں، پس ہم (اللہ کے لئے) مذکورہ کذب کو محال نہیں مانتے کیونکہ واقع کے خلاف کوئی قضیہ و خبر بنانا اور اس کو فرشتوں اور انبیاء پر القاء کرنا اللہ تعالی کی قدرت سے خارج نہیں ورنہ لازم آئیگا کہ انسانی قدرت اللہ تعالی کی قدرت سے زائد ہوجائے۔ رسالہ ''یک روزہ''، ص۱۷.

    اللہ عزوجل مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھے آمین ۔

     ہم اھلسنت وجماعت کے نزدیک اللہ عزوجل کی طرف کذب کی نسبت کرنا منع ہے کہ اللہ عزوجل کے لیے جھوٹ بولنا محال ہے وہ جھوٹ نہیں بول سکتا .

    اللہ تعالی قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے:

    (وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیلْاً ) پ۵، النساء:۱۲۲. ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی۔

    (وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیْثًا) پ۵، النساء:۸۷. ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی۔

    في ''تفسیر روح البیان''، ج۲، ص۲۵۵، و''تفسیر البیضاوي''، ج۲، ص۲۲۹، تحت ہذہ الآیۃ: ((وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّہِ حَدِیثًا)، إنکار أن یکون أحد أکثر صدقاً منہ، فإنّہ لا یتطرق الکذب إلی خبرہ بوجہ؛ لأنّہ نقص وہو علی اللہ محال).

     یعنی: اللہ تعالی اس آیت میں انکار فرماتا ہے کہ کوئی شخص اللہ سے زیادہ سچا ہو ، اس کی خبر میں تو جھوٹ کا کوئی شائبہ تک نہیں اس لیے کہ جھوٹ عیب ہے اور عیب اللہ تعالی کے لئے محال ہے۔ 

    وفي''تفسیر الخازن''، ج۱، ص۴۱۰، تحت ہذہ الآیۃ: (وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیْثًا)، یعني: لا أحد أصدق من اللہ فإنّہ لا یخلف المیعاد ولا یجوز علیہ الکذب).

    یعنی: مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی سے زیادہ کوئی سچا نہیں، بیشک وہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا اور نہ اس کا جھوٹ بولنا ممکن ہے۔ 

    وفي''تفسیر أبي السعود''، ج۱، ص۵۶۱، تحت ہذہ الآیۃ: ((وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیْثًا)، إنکارٌ لأن یکون أحدٌ أصدقَ منہ تعالی في وعدہ وسائرِ أخبارِہ وبیانٌ لاستحالتہ کیف لا والکذِبُ مُحالٌ علیہ سبحانہ دون غیرِہ).یعنی: اس آیت سے ثابت ہوا کہ وعدہ، اور کسی طرح کی خبر دینے میں، اللہ تعالی سے زیادہ سچا کوئی نہیں اور اس کے محال ہونے کی وضاحت بھی ہے اور کیسے نہ ہو کہ جھوٹ بولنا اللہ سبحانہ وتعالی کے لئے محال ہے بخلاف دوسروں کے۔ .

    (فَلَنْ یُّخْلِفَ اللہُ عَہْدَہٗۤ) پ۱، البقرۃ:۸۰. ترجمہ کنز الایمان: جب تو اللہ ہرگز اپنا عہد خلاف نہ کریگا۔

    في ''تفسیر الکبیر''، ج۱، ص۵۶۷، تحت ہذہ الآیۃ: ((فَلَنْ یُّخْلِفَ اللہُ عَہْدَہٗۤ) یدّل علی أنّہ سبحانہ وتعالی منزہ عن الکذب وعدہ ووعیدہ، قال أصحابنا: لأنّ الکذب صفۃ نقص، والنقص علی اللہ محال). 

    یعنی: اللہ تعالی کا یہ فرمانا کہ اللہ ہرگز اپنا عہد خلاف نہ کریگا اس مدعا پر واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالی اپنے ہر وعدے اور وعید میں جھوٹ سے پاک ہے ھمارے اصحاب کہتے ہیں کہ جھوٹ صفت نقص ہے اور نقص اللہ تعالی کے لئے محال ہے۔
Flag Counter