| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۱۰:
''روزی کی کشائش اور تنگی کرنی اور تندرست و بیمار کر دینا، اِقبال و اِدبار (1) دینا، حاجتیں بر لانی، بلائیں ٹالنی، مشکل میں دستگیری کرنی، یہ سب اﷲ ہی کی شان ہے اور کسی انبیا، اولیا، بھوت، پری کی یہ شان نہیں، جو کسی کو ایسا تصرّف ثابت کرے اور اس سے مرادیں مانگے اور مصیبت کے وقت اُس کو پکارے، سو وہ مشرک ہو جاتا ہے، پھر خواہ یوں سمجھے کہ اِن کاموں کی طاقت اُن کو خود بخود ہے، خواہ یوں سمجھے کہ اﷲ نے اُن کو قدرت بخشی ہے، ہر طرح شرک ہے۔ ''(2)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یعنی: ظلمات بعضہا فوق بعض کی بناء پر زنا کے وسوسہ سے اپنی بیوی سے مجامعت کا خیال بہتر ہے اور اپنی ہمت کو شیخ اور ان جیسے معظم لوگوں خواہ جناب رسالت مآب ہی ہوں، کی طرف مبذول کرنا اپنے گائے اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے کئی گناہ بدتر ہے، کیونکہ ان کا خیال تعظیم اور اجلال کے ساتھ انسان کے دل کی گہرائی میں چپک جاتا ہے، بخلاف گدھے اور گائے کے خیال میں نہ تو اس قدر چسپیدگی ہوتی ہے اور نہ ہی تعظیم بلکہ ان کا خیال بے تعظیم اور حقیر ہوتا ہے ،اور یہ غیر کی تعظیم و اجلال نماز میں ملحوظ و مقصود ہو تو شرک کی طرف کھینچ لیتی ہے۔ 1۔۔۔۔۔۔ عروج و زوال۔ 2۔۔۔۔۔۔ ''تقویۃ الایمان''، باب اوّل، توحید اور شرک کا بیان، ص۲۲:
Bahaar-e-Shareeat-1 Qadyani (219).gif