Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
220 - 278
    ''قرآن مجید'' میں ہے:
 (اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ ۚ )ـ1ـ
''اُن کو اﷲ و رسول اﷲ نے غنی کر دیا اپنے فضل سے۔'' 

    قرآن تو کہتا ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ عللیہ  وسلم نے دولت مند کر دیا اور یہ کہتا ہے: ''جو کسی کو ایسا تصرّف ثابت کرے مشرک ہے۔'' تو اِس کے طور پر قرآنِ مجید شرک کی تعلیم دیتا ہے...! قرآن عظیم میں ارشاد ہے:
 (وَتُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ بِاِذْنِیۡ ۚ )
''اے عیسیٰ! تُو میرے حکم سے مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اچھا کر دیتا ہے۔'' 

    اور دوسری جگہ ہے:
 ( وَاُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ وَاُحۡیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللہِ ۚ )ـ3ـ
    ''عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں: میں اچھا کرتا ہوں، مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اورمُردوں کو جِلا دیتا ہوں، اﷲ کے حکم سے۔'' 

    اب قرآن کا تو یہ حکم ہے اور وہابیہ یہ کہتے ہیں کہ تندرست کرنا اﷲ (عزوجل) ہی کی شان ہے، جو کسی کو ایسا تصرّف ثابت کرے مشرک ہے۔ اب وہابی بتائیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ایسا تصرّف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے ثابت کیا تو اُس پر کیا حکم لگاتے ہیں...؟! اور لُطف یہ ہے کہ اﷲ عزوجل نے اگر اُن کو قدرت بخشی ہے، جب بھی شرک ہے تو معلوم نہیں کہ اِن کے یہاں اِسلام کس چیز کا نام ہے؟ 

    ''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۱۱: 

    ''گِرد و پیش کے جنگل کا ادب کرنا، یعنی وہاں شکار نہ کرنا، درخت نہ کاٹنا، یہ کام اﷲ نے اپنی عبادت کے لیے بتائے ہیں، پھر جو کوئی کسی پیغمبر یا بھوت کے مکانوں کے گِرد و پیش کے جنگل کا ادب کرے، اُس پر شرک ثابت ہے، خواہ یوں سمجھے کہ یہ آپ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ پ۱۰، التوبۃ : ۷۴.

2۔۔۔۔۔۔ پ۷، المآئدۃ: ۱۱۰. 

3۔۔۔۔۔۔ پ۳، اٰلِ عمرٰن: ۴۹.
Flag Counter