Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
217 - 278
 و''عالمگیری'' میں ہے :کہ اﷲ تعالیٰ کے لیے جو مکان ثابت کرے، کافر ہے۔ (1) 

    ''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۶۰ میں یہ حدیث:
 ((أَرأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِيْ أَ کُنْتَ تَسْجُدُ لَہٗ.))(2)
    نقل کر کے ترجمہ کیا کہ ''بھلا خیال تو کر جو تُو گزرے میری قبر پر، کیا سجدہ کرے تو اُس کو''، اُس کے بعد (ف) لکھ کر فائدہ یہ جَڑ دیا: ( یعنی میں بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں۔) (3) حالانکہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
 ((إِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أنْ تَأْکُلَ أجْسَادَ الأَنْبِیَاءِ.))(4)
''اﷲ تعالیٰ نے اپنے انبیا علیہم السلام کے اَجسام کھانا، زمین پر حرام کر دیا ہے۔''
 ((فَنَبِيُّ اللہِ حَيٌّ یُّرْزَقُ.)) (5)
''تو اﷲ (عزوجل) کے نبی زندہ ہیں، روزی دیے جاتے ہیں۔'' 

    اِسی ''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۱۹ میں ہے: ''ھمارا جب خالق اﷲ ہے اور اس نے ہم کو پیدا کیا توہم کو بھی چاہیے کہ اپنے ہر کاموں پر اُسی کو پکاریں اور کسی سے ہم کو کیا کام؟ جیسے جو کوئی ایک بادشاہ کا غلام ہوچکا تو وہ اپنے ہر کام کا علاقہ اُسی سے رکھتا ہے،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في''البحر الرائق''، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۵، ص۲۰۲: (یکفر بقولہ یجوز أن یفعل اللہ فعلاً لاحکمۃ فیہ، وبإثبات المکان للہ تعالی فإن قال اللہ في السماء فإن قصد حکایۃ ما جاء في ظاہر الأخبار لایکفر وإن أراد المکان کفر، وإن لم یکن لہ نیۃ کفر عند الأکثر وہو الأصح وعلیہ الفتوی).

    في ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۵۹: (یکفر بإثبات المکان للہ تعالی).

'' الفتاوی الرضویۃ '' ، کتا ب السیر، ج۱۴، ص۲۸۲ ۔ ۲۸۳.

2۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب النکاح، باب في حق الزوج علی المرأۃ، الحدیث: ۲۱۴۰، ج۲، ص۳۵۵.

3۔۔۔۔۔۔ ''تقویۃ الإیمان''، باب أوّل، فصل۵، شرک فی العبادات کی برائی کا بیان، ص۵۷:
Bahaar-e-Shareeat-1 Qadyani (217).gif
4۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، الحدیث: ۱۶۳۷، ج۲، ص۲۹۱.

     ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ، الحدیث:۱۰۴۶، ج۱، ص۳۹۱.

     ''سنن النساءي''، کتاب الجمعۃ، باب إکثار الصلاۃ علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱۳۷۱، ص۲۳۷.

    '' المسند''، للإمام أحمد بن حنبل، ج۵، ص۴۶۳، الحدیث:۱۶۱۶۲. 

     ''المستدرک'' للحاکم، کتاب الجمعۃ، الحدیث:۱۰۶۸، ص۵۶۹.

5۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، الحدیث: ۱۶۳۷، ج۲، ص۲۹۱.
Flag Counter