Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
216 - 278
قلبی خباثتوں پر مطلع ہوں اور ان کے دامِ تزویر (1) سے بچیں اور ان کے جبّہ و دستار پر نہ جائیں۔ برادرانِ اسلام بغور سُنیں اور میزانِ ایمان میں تولیں کہ ایمان سے زیادہ عزیز مسلمان کے نزدیک کوئی چیز نہیں اور ایمان، اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی محبت و تعظیم ہی کا نام ہے۔ ایمان کے ساتھ جس میں جتنے فضائل پائے جائیں وہ اُسی قدر زیادہ فضیلت رکھتا ہے، اور ایمان نہیں تو مسلمانوں کے نزدیک وہ کچھ وقعت نہیں رکھتا، اگرچہ کتنا ہی بڑا عالم و زاہد و تارک الدنیا وغیرہ بنتا ہو، مقصود یہ ہے کہ اُن کے مولوی اور عالم فاضل ہونے کی وجہ سے اُنھیں تم اپنا پیشوا نہ سمجھو، جب کہ وہ اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دشمن ہیں، کیا یہود ونصاریٰ بلکہ ہنود میں بھی اُن کے مذاہب کے عالم یا تارک الدنیا نہیں ہوتے...؟! کیا تم اُن کو اپنا پیشوا تسلیم کرسکتے ہو...؟! ہرگز نہیں! اِسی طرح یہ لامذہب و بد مذہب تمھارے کسی طرح مقتدا نہیں ہوسکتے۔ 

    ''اِیضاح الحق'' صفحہ ۳۵ و صفحہ ۳۶ مطبع فاروقی میں ہے(2) : (''تنزیہ اُو تعالیٰ از زمان و مکان و جہت و اثباتِ رویت بلاجہت و محاذاتِ ہمہ از قبیل بدعاتِ حقیقیہ است، اگر صاحبِ آں اعتقاداتِ مذکورہ را از جنسِ عقائدِ دینیہ مے شمارد'') .(3) 

    اس میں صاف تصریح ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو زمان و مکان و جہت سے پاک جاننا اور اس کا دیدار بلا کیف ماننا، بدعت و گمراہی ہے، حالانکہ یہ تمام اھلِ سنت کا عقیدہ ہے۔ (4) تو اِس قائل نے تمام پیشوایانِ اھلسنت کو گمراہ و بدعتی بتایا، ''بحر الرائق'' و ''درِ مختار''
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ مکر وفریب۔

2۔۔۔۔۔۔''إیضاح الحق''، (مترجم اردو) فائدہ اول، پھلا مسئلہ، ص۷۷۔۷۸، قدیمی کتب خانہ.

3۔۔۔۔۔۔یعنی: اللہ تعالی کو زمان ومکان اور جہت سے پاک قرار دینا اور اس کا دیدار بلا جہت وکیف ثابت کرنا یہ تمام امور از قبیل بدعت حقیقیہ ہیں اگر کوئی شخص ان مذکورہ اعتقادات کو دینی اعتقاد شمار کرے۔

4۔۔۔۔۔۔ '' تحفہ اثنا عشریہ ''میں شاہ عبد العزیز محدث دھلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : (عقیدہ سیزدہم آنکہ حق تعالی را مکان نیست واو را جہت از فوق وتحت متصور نیست وہمینست مذہب اھل سنت وجماعت)

یعنی:تیرھواں عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مکان اور فوق وتحت کی جہت متصور نہیں ہے اور یہی اھل سنت وجماعت کا مذہب ہے۔ 

(''تحفہ اثنا عشریہ''، (مترجم) پانچواں باب، مسائل الہیات، ص۲۷۹، دار الاشاعت).

    وفي ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج ۱ ، ص۲۴۸۔۲۴۹: (ولا یتمکن بمکان) أي: واللہ تعالی یستحیل علیہ أن یکون في مکان، (ولا یجري علیہ) سبحانہ وتعالی (زمان، ولیس لہ) تعالی (جہۃ من الجہات الست) التي ہي فوق وتحت ویمین ویسار وقدام وخلف، لأنّہ تعالی لیس بجسم حتی تکون لہ جہۃ کما للأجسام، ملتقطا.

    وفي''الفقہ الأکبر''، ص۸۳: (واللہ تعالی یری في الآخرۃ، ویراہ المؤمنون وہم في الجنۃ بأعین رؤوسہم بلا تشبیہ ولا کیفیۃ، ولا کمیۃ، ولا یکون بینہ وبین خلقہ مسافۃ). انظر ''الفتاوی الرضویۃ''، کتا ب السیر، ج۱۴، ص۲۸۳.
Flag Counter