| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
(۳) وہابی: یہ ایک نیا فرقہ ہے جو ۱۲۰۹ھ میں پیدا ہوا، اِس مذہب کا بانی محمد بن عبدالوہاب نجدی تھا، جس نے تمام عرب، خصوصاً حرمین شریفین میں بہت شدید فتنے پھیلائے، علما کو قتل کیا(1)، صحابہ کرام و ائمہ و علما و شہدا کی قبریں کھود ڈالیں(2)، روضہ انور کا نام معاذاﷲ ''صنمِ اکبر'' رکھا تھا(3)، یعنی بڑا بت اور طرح طرح کے ظلم کیے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ نجد سے فتنے اٹھیں گے اور شیطان کا گروہ نکلے گا۔(4) وہ گروہ بارہ سو برس بعدیہ ظاہر ہوا۔ علامہ شامی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے اِسے خارجی بتایا۔(5) اِس عبدالوہاب کے بیٹے نے ایک کتاب لکھی جس کا نام
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ في ''ردالمحتار''، کتا ب الجھاد، باب البغاۃ، مطلب في اتباع عبد الوھاب الخوارج في زماننا، ج۶، ص۴۰۰: (وقع في زماننا في أتباع عبد الوھاب الذ ین خرجوا من نجد وتغلبوا علی الحرمین وکانواینتحلون مذ ھب الحنابلۃ، لکنّھم اعتقدوا أنّھم ھم المسلمون وأنّ من خالف اعتقادھم مشرکون، واستباحوا بذ لک قتل أھل السنۃ وقتل علمائھم).
انظر''الدرر السنیۃ فيالأجوبۃ النجدیۃ، کتاب العقائد، الجزء الأول، ص۶۷.
2۔۔۔۔۔۔ ''الدرر السنیۃ فيالأجوبۃ النجدیۃ، کتاب العقائد، الجزء الأول، ص۵۷.
3۔۔۔۔۔۔ قال محمد بن عبدالوھاب نجدی: (فالقبر المعظّم المقدّس وَثَنٌ وصنمٌ بکل معاني الوثنیّۃ لوکان الناس یعقلون).
حاشیہ ''شرح الصدور بتحریم رفع القبور'' لمحمد بن عبد الوھاب، ص ۲۵، مطبوعہ سعودیہ.
4۔۔۔۔۔۔ عن ابن عمر قال: ذکر النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((اللّٰھم بارک لنا في شا منا، اللّٰھم با رک لنا في یمننا، قالوا: یا رسول اللہ! وفي نجد نا ؟ قال: اللّٰھم بارک لنا في شأمنا، اللّٰھم با رک لنا في یمننا، قالوا: یا رسول اللہ! وفي نجدنا ؟ فأظنہ قال في الثالثۃ: ھناک الزلازل والفتن، وبھا یطلع قرن الشیطان)).''صحیح البخاري''، کتا ب الفتن، الحدیث:۷۰۹۴، ج۴، ص۴۴۰۔۴۴۱.
5۔۔۔۔۔۔ في''ردالمحتار''، کتاب الجھاد، ج۶، ص۴۰۰: (ویکفرون أصحاب نبینا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) علمت أنّ ھذا غیر شرط في مسمّی الخوارج، بل ھو بیان لمن خرجوا علی سیدنا علي رضي اللہ عنہ، وإلاّ فیکفي فیھم اعتقادھم کفر من خرجوا علیہ، کما وقع في زماننا فيأتباع عبد الوھاب الذین خرجوا من نجد وتغلبوا علی الحرمین وکانوا ینتحلون مذ ہب الحنابلۃ).
(إِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوہُ عَدُوًّا) [پ۲۴، فاطر: ۶] في ''تفسیر الصاوي''، ج۵، ص۱۶۸۸: وقیل: ہذہ الآیۃ نزلت في الخوارج الذین یحرفون تأویل الکتاب والسنۃ ویستحلون بذلک دماء المسلمین وأموالہم لما ھو مشاہد الآن في نظائرہم یحسبون أنھم علی شيء ألا إنّہم ہم الکاذبون استحوذ علیہم الشیطن فأنساہم ذکر اللہ أولئک حزب الشیطن ہم الخاسرون، نسأل اللہ الکریم أن یقطع دابرہم۔
في ''شرح النساءي''، ج۱، ص۳۶۰ : (قولہ: ((کما یمرق السہم۔۔۔ إلخ)): یرید أنّ دخولہم أي: الخوارج في الإسلام ثم خروجھم منہ لم یتمسکوا منہ بشیء کالسہم دخل في الرمیۃ ثم نفذ وخرج منھا ولم یعلق بہ منھا شیء کذا في ''المجمع'' ثم لیعلم إنّ الذین یدینون دین ابن عبد الوھاب النجدي یسلکون مسالکہ في الأصول والفروع ویدعون في بلادنا باسم الوھابین وغیر المقلدین ویزعمون أنّ تقلید أحد الأئمۃ الأربعۃ رضوان اللہ علیہم أجمعین شرک وإنّ من خالفہم ہم المشرکون