ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وفي ''ناسخ التواریخ''، ج۲، کتاب دوم، ص۴۹۳۔۴۹۴: (مردم شیعی چنان دانندکہ در قرآن بعضے آیات راکہ دلالت بر نص خلافت علی مے داشتہ، واز فضائل أھل بیت می بودہ ابوبکر وعمر ساقط ساختند وازیں روئے آن قرآن کہ علی فراہم آوردہ بود پنذیرفتند وآں قرآن حبز در نزد قائم آل محمد دیدہ نشود وہمچنان عثمان نیز از آنچہ ابوبکر وعمر داشت نیز لختے بکاست).
یعنی: شیعہ لوگ اس طرح جانتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ قرآن مجید کی بعض ایسی آیات جو خلافت علی رضی اللہ عنہ پر نص صریح تھیں اور فضائل اھل بیت کے قبیل سے تھیں ابوبکر اور عمر نے ان کو ساقط کردیا اور حذف کردیا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا لایا ہوا قرآن قبول نہ کیا اور وہ قرآن سوائے قائم آل محمد کے کسی کے پاس نہیں دیکھا جاسکتا اور اسی طرح عثمان نے بھی اس قرآن سے جو ابوبکر وعمر رکھتے تھے مزید کمی کردی۔
1۔۔۔۔۔۔ (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ) پ۱۴، الحجر: ۹.
في ''تفسیر البیضاوي''، ج۳، ص۳۶۲، تحت الآیۃ: بقولہ: (وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ) أي: من التحریف والزیادۃ والنقص).
وفي ''فواتح الرحموت'' شرح ''مسلم الثبوت''، مسألۃ کل مجتہد في المسألۃ الاجتھادیۃ... إلخ، ج۲، ص۴۲۲: (اعلم أنّي رأیت في ''مجمع البیان'' تفسیر بعض الشیعۃ أنّہ ذہب بعض أصحابہم إلی أنّ القرآن العیاذ باللہ کان زائداً علی ھذا المکتوب المقروئ، قد ذہب بتقصیر من الصحابۃ الجامعین العیاذ باللہ، ولم یختر صاحب ذلک التفسیر ھذا القول، فمن قال بھذا القول فہو کافر لإنکارہ الضروري، فافہم).
في ''منح الروض الأزہر''، فصل من ذلک فیما یتعلق بالقرآن والصلاۃ، ص۱۶۷: (من جحد القرآن، أي:کلہ أو سورۃ منہ أو آیۃ، قلت: وکذا کلمۃ أو قراء ۃ متواترۃ، أو زعم أنّہا لیست من کلام اللہ تعالی کفر).
وفي '' الشفاء '' بتعریف حقوق المصطفی، فصل في بیان ماہومن المقالات کفر، الجزء الثاني، ص۲۸۹: (ومن قال ھذا کافر وکذلک من أنکر القرآن أو حرفاً منہ أو غیر شیأاً منہ أو زاد فیہ کفعل الباطنیۃ والإسماعیلیۃ).
وفي '' المعتمد المستند''، الثالثۃ: الرافضۃ ، ص۲۲۴ ۔ ۲۲۵: (الرافضۃ الموجودون الآن في بلادنا، وصرحت مجتھدوھم وجھالھم ونسائھم ورجالھم بنقص القرآن، وأنّ الصحابۃ أسقطوا منہ سورا وآیات، وصرحوا بتفضیل أمیر المؤمنین سیدنا علي کرّم اللہ تعالٰی وجھہ الکریم وسائر الأ ئمۃ الأطھار رضي اللہ تعالٰی عنھم علی الأنبیاء السابقین جمیعاً، صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیھم، وھذان کفران لا تجدنّ أحداً منھم خالیاً عنھما في ھذا الزمان، واللہ المستعان).
''الفتاوی الرضویۃ ''، ج۱۴، ص۲۵۹۔۲۶۲.