Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
211 - 278
    ایک عقیدہ یہ ہے کہ ''قرآن مجید محفوظ نہیں، بلکہ اُس میں سے کچھ پارے یا سورتیں یا آیتیں یا الفاظ امیر المؤمنین عثمن ا غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یا دیگر صحابہ رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم نے نکال دیے۔'' (1) مگر تعجب ہے کہ مولیٰ علی کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ نے بھی اُسے ناقص ہی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في ''أصول کافي'': (عن ہشام بن سالم عن أبي عبد اللہ علیہ السلام قال: إنّ القرآن الذي جاء بہ جبرائیل علیہ السلام إلی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سبعۃ عشرألف آیۃ).

    یعنی: ہشام بن سالم بیان کرتے ہیں کہ ابو عبداللہ علیہ السلام نے فرمایا: بے شک جس قرآن کو جبرائیل علیہ السلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے کر آئے وہ سترہ ہزار آیتوں پر (مشتمل) ہے. ''أصول کافي''، للشیخ ابوجعفر محمد بن یعقوب کلیني، ج۲، ص۶۳۴، مطبوعہ دارالکتب الإسلامیہ تہران إیران. 

    شیخ ابو جعفر کلینی کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اصل قرآن کی سترہ ہزار آیتیں تھیں حالانکہ امام جلال الدین سیوطی نے لکھا ہے کہ قرآن مجید میں چھ ہزار چھ سو سولہ آیات ہیں جیسا کہ آپ'' الاتقان '' میں فرماتے ہیں: أخرج ابن الضریس من طریق عثمان بن عطاء عن أبیہ عن ابن عباس قال:(جمیع أي القرآن ستۃ آلاف آیۃ وستمائۃ آیۃ وست عشرۃ آیۃ).

    ''الإتقان''، فصل في عدد الآي... إلخ، ج۱، ص۹۵.

    وفي ''الاحتجاج'': ( قال علي علیہ السلام: وأمّا ظہورک علی تناکر قولہ:(وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَائِ) ولیس یشبہ القسط في الیتامی نکاح النساء، ولا کلّ النساء أیتام، فہو مما قدمت ذکرہ من إسقاط المنافقین من القرآن وبین القول في الیتامی وبین نکاح النساء من الخطاب والقصص أکثر من ثلث القرآن، وھذا ما أشبہ مما ظہرت حوادث المنافقین فیہ لأھل النظر والتأمل، ووجد المعطلون وأھل الملل المخالفۃ للإسلام مساغا إلی القدح في القرآن، ولو شرحت لک کلما أسقط وحرف وبدل مما یجري ھذا المجری لطال، وظہرما تحظر التقیۃ إظہارہ من مناقب الأولیاء ومثالب الأعداء).

     ''الاحتجاج''، للشیخ أبو منصور أحمد بن علي بن أبي طالب طبرسي من علماء القرن السادس، ج۱، ص۲۵۴، مطبوعہ مؤسسۃ الأعلمی بیروت.

    وفي ''مقدمۃ التفسیر الصافي''، ص۱۳: (المستفاد من مجموع ہذہ الروایات والأخبار وغیرہا من الروایات من طریق أھل البیت علیہم السلام أنّ القرآن الذي بین أظہرنا لیس بتمامہ کما أنزل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، بل منہ ما ہوخلاف ما أنزل اللہ، ومنہ ما ہو مغیر محرف، وأنّہ قد حذف عنہ أشیاء کثیرۃ، منھا: اسم علي في کثیر من المواضع، ومنھا: لفظۃ آل محمد غیر مرۃ، ومنھا: أسماء المنافقین في مواضعہا، ومنھا غیر ذلک، وأنّہ لیس أیضا علی الترتیب المرضي عند اللہ وعند رسولہ وبہ قال علي بن إبراہیم).
Flag Counter