| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
اِس فرقہ کا ایک عقیدہ یہ ہے کہ ''اﷲ عزوجل پر اَصلح واجب ہے(1) یعنی جو کام بندے کے حق میں نافع ہو، اﷲ عزوجل پر واجب ہے کہ وہی کرے، اُسے کرنا پڑے گا۔''
ایک عقیدہ یہ ہے کہ ''ائمہ اَطہار رضی ا ﷲ تعالیٰ عنھم، انبیا علیہم السلام سے افضل ہیں۔'' (2) اور یہ بالاجماع کفر ہے، کہ غیرِ نبی کو نبی سے افضل کہنا ہے۔ (3)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یعنی:عائشہ (صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا) ابوبکر (صدیق رضی اللہ تعالی عنہ) کی بیٹی تھیں، عائشہ اور عبد الرحمن بن ابو بکر (رضی اللہ تعالی عنھما)کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عمیر تھیں۔پیغمبر ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت خدیجۃ الکبری (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کی رحلت کے بعد مکہ مکرمہ میں حضرت سودہ (رضی اللہ تعالی عنہا )کے نکاح سے پہلے ماہ شوال میں ان سے نکاح فرمایا اور زفاف سودہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے نکاح کے بعد ماہ شوال میں ہجرت کے پہلے سال مدینہ منورہ میں فرمایا اس وقت عائشہ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کی عمر دس سال تھی اور پیغمبر( صلی اللہ علیہ وسلم) کی عمر ۵۳ سال تھی،۔۔۔۔۔۔حضرت حفصہ( رضی اللہ تعالی عنہا) حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ تعالی عنہ) کی بیٹی تھیں۔ حضرت حفصہ، حضرت عبداللہ بن عمر ، عبد الرحمن بن عمر رضی اللہ عنھم کی والدہ زینب بنت مظعون تھیں جو کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ کی ہمشیرہ تھیں پیغمبر (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) نے ہجرت کے تیسرے سال مدینہ طیبہ میں ان سے نکاح فرمایا رسول پاک (صلی اللہ علیہ وسلم )سے قبل حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا حنیس بن عبداللہ بن سہمی کی بیوی تھیں حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مدینہ طیبہ میں ۴۵ ھ میں انتقال فرمایا۔
1۔۔۔۔۔۔ ''تحفہ اثنا عشریۃ'' (مترجم)، باب۵ : مسائل إلٰھیات ، عقید ہ نمبر۱۹، ص۲۹۳۔۲۹۷.
2۔۔۔۔۔۔ ''تحفہ اثنا عشریۃ '' (مترجم)، باب۶ : عقیدہ نمبر ۲،ص۳۱۲۔۳۱۳.
3۔۔۔۔۔۔ في'' الشفاء '' فصل في بیان ماہومن المقالات کفر، الجزء الثاني، ص۲۹۰: (وکذلک نقطع بتکفیر غلاۃ الرافضۃ في قولہم: إنّ الأئمۃ أفضل من الأنبیاء).
وفي ''منح الروض الأزہر''، الولي لا یبلغ درجۃ النبي، ص۱۲۱: (فما نقل عن بعض الکرامیۃ من جواز کون الولي أفضل من النبي کفر وضلالۃ وإلحاد وجہالۃ).
وفي ''ارشاد الساري''، کتاب العلم، باب ما یستحب للعالم... إلخ، ج۱، ص۳۷۸: (فالنبي أفضل من الولي، وہو أمر مقطوع بہ، والقائل بخلافہ کافر؛ لأنّہ معلوم من الشرع بالضرورۃ).
في ''المعتقد المنتقد''، ص۱۲۵: (إنّ نبیا واحداً أفضل عند اللہ من جمیع الأولیاء، ومن فضل ولیاً علی نبي یخشی علیہ الکفر بل ہوکافر).