Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
209 - 278
یکے بعد دیگرے حضرت عثمن ذی النورین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں آئیں(1) اور صدیق و فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنھما کی صاحبزادیاں شرفِ زوجیت سے مشرف ہوئیں۔(2) کیا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے ایسے تعلقات جن سے ہوں، اُن کی نسبت وہ ملعون الفاظ کوئی ادنیٰ عقل والا ایک لمحہ کے لیے جاءز رکھ سکتا ہے...؟! ہرگز نہیں!، ہرگز نہیں!۔
ـ1۔۔۔۔۔۔ قال شیخنا أبو عثمان: (ولمّا ماتت الابنتان تحت عثمان، قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم لأصحابہ: ما تنتظرون لعثمان، ألاَ أبُو أیم ألاَ أخُو أیْم، زوّجتُہ ابنتین ولو أنّ عندي ثالثۃ لفعلتُ، قال: ولذلک سمّي ذا النورین). 

    ''شرح نہج البلاغۃ'' ابن أبي حدید، ج۳، ص۴۶۰، مطبوعہ بیروت بڑا سائز.

    وفي روایۃ: (پس خویشاوندی عثمان از ابوبکر وعمر بہ پیغمبر نزدیک تر است و بہ امادی پیغمبر مرتبہ اے یافتد ای کہ ابوبکر وعمر نیافتند عثمان رقیّہ وام کلثوم رابنا بر مشہور دختران پیغمبر بودند بہمسری خود در آورد در أوّل رقیّہ را وبعد از چثد گاہ کہ آں مظلومہ وفات نمود ام کلثوم رابجائے خواہر باو دادند)۔ ''شرح نہج البلاغۃ'' فارسی، فیض الاسلام، ص۵۱۹، خطبہ نمبر۱۴۳، مطبوعہ ایران.

    یعنی: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ باعتبار قرابت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے قریب ہیں کہ اتنی قرابت ابوبکر اور عمر بن خطاب کو بھی حاصل نہیں۔ پھر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا داماد بن کر وہ مرتبہ پایا جو ابوبکر وعمر کو نہ ملا حضرت عثمان نے سیدہ رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنھما سے نکاح کیا جو مشہور روایات کے مطابق پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں تھیں پہلے حضرت رقیہ سے شادی ہوئی اور ان کے انتقال کے بعد ان کی ہمشیرہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح میں آئیں۔

    دیگر شیعہ کتب بھی ملاحظہ فرمائیں: ''تفسیر مجمع البیان''، ج۲، جزء سوم، ص۳۳۳، مطبوعہ تہران. ''شرح نہج البلاغۃ''، فارسي، فیض الإسلام خطبہ ۱۴۳، ص۵۲۸، مطبوعہ تہران.

2۔۔۔۔۔۔ (عائشۃ دختر ابا بکر بود و مادر عائشۃ وعبد الرحمٰن بن ابی بکر ام رومان بنت عامر بن عمیر بود پیغمبر درمکہ معظمہ بعد از رحلت خدیجہ کبرےٰ وقبل از تزویج سودہ در ماہ شوال او را تزویج فرمود و زفافش بعد از شوّال سال اوّل ہجرت در مدینہ طیبہ واقع شد در حالیتکہ عائشۃ دہ سالہ بود پیغمبر پنجاہ وسہ سالہ بودند۔۔۔۔۔۔حفصہ دُختر عمر بن الخطاب بود مادر حفصہ وعبداللہ بن عمرو عبدالرحمن بن عمر زینب بنت مظعون خواہر جناب عثمان بن مظعون بود پیغمبر (ص) او را در سال سوم از ہجرت در مدینہ تزویج فرمود وقبل از حضرت رسول (ص) حفصہ زوجہ حنیس بن عبداللہ بن السہمی بود وحفصہ در سنہ چھل وپنج ہجری درمدینہ طیبہ از دنیا رفت)۔ 

''منتخب التواریخ'' فارسی، ص۲۴۔۲۵، مطبوعہ تہران.
Flag Counter