ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یعنی: علل الشرائع میں حضرت امام محمدباقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو وہ حضرت عائشہ کو زندہ کرکے ان پر حد جاری کریں گے اور ان سے فاطمہ کا انتقام لیں گے۔ ''حق الیقین'' لملّا باقر مجلسی، ص ۵۰۰۔ ۵۱۹۔ ۵۲۲۔ ۳۴۷، مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ تہران ایران، ۱۳۵۷ھ.
''حیات القلوب''، لملّا باقر مجلسی، ج۲، ص۶۱۰۔۶۱۱.مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ تہران.
ایک جگہ لکھا: (امام مہدی ہر دو (ابوبکر و عمر ) کو قبر سے باہر نکالیں گے وہ اپنی اسی صورت پر تروتازہ بدن کے ساتھ باہر نکالے جائیں گے پھر فرمائیں گے کہ ان کا کفن اتارو، ان کا کفن حلق سے اتارا جائے گا، ان کو اللہ کی قدرت سے زندہ کریں گے اور تمام مخلوق کو جمع ہونے کا حکم دیں گے پھر ابتداء عالم سے لے کر اخیر عالم تک جتنے ظلم اور کفر ہوئے ہیں ان سب کا گناہ ابوبکر وعمر پر لازم کردیں گے، اور وہ اس کا اعتراف کریں گے کہ اگر وہ پہلے دن خلیفہ برحق کا حق غصب نہ کرتے تو یہ گناہ نہ ہوتے ،پھر ان کو درخت پر چڑھانے کا حکم دیں گے اور آگ کو حکم دیں گے کہ زمین سے باہر آئے اور ان کو درخت کے ساتھ جلادے، اور ہوا کو حکم دیں گے کہ ان کی راکھ کو اڑا کر دریاؤں میں گرادے۔''حق الیقین'' لملّا باقر مجلسی، ص ۳۶۱۔۳۶۲، مطبوعہ کتاب فروشي اسلامیہ تہران ایران، ۱۳۵۷ھ.
1۔۔۔۔۔۔ (عن أبي جعفرقال:کان الناس أھل الردۃ بعد النبي إلاّ ثلثۃ، فقلت: ومن الثلاثۃ؟ فقال: المقداد بن الأسود، أبو ذر الغفاري، سلمان الفارسي).
یعنی: ابو جعفر علیہ السلام بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تین شخصوں کے سوا سب مرتد ہوگئے تھے، میں نے پوچھا: وہ تین کون ہیں؟ انہوں نے کہا : مقداد بن اسود، ابو ذر غفاری اور سلمان فارسی.
''رجال الکشي''، ص۱۲، مطبوعہ مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات کربلا إیران، (۲) ''تہذیب المتین في تأریخ أمیر المؤمنین''، ذکر مصیبت عظمی والکبرٰی (۳) ''احتجاج طبرسي''، جلد أول، ص۱۱۳، مطبوعہ نجف أشرف طبع جدید.
وفي ''الروضۃ من الکافي'' (''فروع کافي''): عن عبد الرحیم القصیر قال: (قلت لأبي جعفر علیہ السلام: إنّ الناس یفزعون إذا قلنا: إنّ الناس ارتدوا، فقال: یا عبد الرحیم إنّ الناس عادوا بعد ما قبض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أھل الجاھلیۃ).
یعنی : عبد الرحیم قصیر بیان کرتے ہیں: کہ میں نے ابوجعفر علیہ السلام سے کہا: جب ہم لوگوں سے یہ کہتے ہیں کہ سب لوگ مرتد ہوگئے تھے تو لوگ گھبرا جاتے ہیں، انہوں نے کہا: اے عبد الرحیم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب لوگ دوبارہ جاھلیت کی طرف پلٹ گئے تھے۔
''الروضۃ من الکافي'' (''فروع کافي'')، لشیخ أبو جعفر محمد بن یعقوب کلینی متوفی ۳۲۸ھ، ج۸، ص۲۹۶، مطبوعہ دار الکتب الإسلامیۃ تہران، طبع رابع.
وفي ''حیاۃ القلوب'': (عیاشی بسند معتبر ازحضرت امام محمد باقر روایت کردہ است کہ چوں حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم از دنیا رحلت نمود مردم ہمہ مرتد شوند بغیرچہار نفر،علي ابن ابي طالب، ومقداد، وسلمان، وابو ذر).