Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
205 - 278
(۲) رافضی: اِن کے مذہب کی کچھ تفصیل اگر کوئی دیکھنا چاہے تو ''تحفہ اِثنا عشریہ''(1) دیکھے، چند مختصرباتیں یہاں گزارش کرتا ہوں۔ 

    صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم کی شان میں یہ فرقہ نہایت گستاخ ہے، یہاں تک کہ اُن پر سبّ و شتم(2) ان کا عام شیوہ ہے(3) ،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔ اس کتاب کے مصنّف حضرت شاہ عبدالعزیز محدثِ دھلوی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ ہیں، اور یہ کتاب اپنے موضوع میں لاجواب و بے نظیر ہے۔

2۔۔۔۔۔۔ لعن طعن۔

3۔۔۔۔۔۔ شیعوں کا عالم ملا باقر مجلسی اپنی کتاب'' حق الیقین'' میں لکھتا ہے: (واز حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام منقولستکہ جہنم را ہفت در است، ازیک درفرعون وہامان وقارون کہ کنایہ از ابوبکر وعمر وعثمان است داخل مے شوند، وازیک دردیگربنوامیہ داخل شوند کہ مخصوص ایشا نست)۔

    یعنی: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ایک دروازے سے داخل ہونے والے فرعون ہامان اور قارون ہیں یہ ابوبکر عمر اور عثمان سے کنایہ ہے، اور دوسرے دروازے سے بنو امیہ داخل ہوں گے جو ان کے ساتھ مخصوص ہے۔

    ایک جگہ لکھا: (واعتقاد مادر برائت آنستکہ بیزاری جو یند از بت ہائے چہار گانہ یعنی ابوبکر وعمر وعثمان ومعاویہ، وزنان چہار گانہ یعنی عائشہ وحفصہ وہند وام الحکم، وازجمیع اشیاع واتباع ایشان وآنکہ ایشان۔۔۔۔۔۔ بدترین خلق خدا یند وآنکہ تمام نمیشود اقرار بخدا ورسول وآئمہ مگر بہ بیزاری از دشمنان ایشان)۔

    یعنی: برأت میں ھمارا اعتقاد یہ ہے کہ ان چار بتوں سے بیزاری طلب کرتے ہیں یعنی ابوبکر ، عمر ، عثمان اور معاویہ سے، اور چار عورتوں سے یعنی عائشہ، حفصہ، ہند اور ام الحکم سے، اور ان کے معتقدوں اور پیروکاروں سے، اور یہ لوگ اللہ کی مخلوق میں سب سے بدتر ہیں اور اللہ ، رسول اور آئمہ سے کیا ہوا عہد اس وقت تک پورا نہیں ہوگا جب تک کہ ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اظہار نہ کیا جائے۔

    ایک جگہ لکھا: (در تقریب المعارف روایت کردہ کہ آزاد کردہ حضرت علی بن الحسین علیہ السلام از آنحضرت پر سید کہ مرا بر تو حق خدمتی ہست، مرا خبردہ از حال ابوبکر وعمر ،حضرت فرمود ہر دو کافر بودند دہر کہ ایشا نرا دوست دارد کافر است)۔

     یعنی: تقریب المعارف میں روایت ہے کہ حضرت علی بن الحسین علیہ السلام کے آزاد کردہ شخص نے حضرت سے پوچھا: آپ کی خدمت کرنے کی وجہ سے میرا آپ پر حق ہے، مجھے ابوبکر اور عمر کے حال کے متعلق بتائیے ،آپ نے فرمایا: وہ دونوں کافر ہیں اور جو ان کو دوست رکھتا ہے وہ بھی کافر ہے۔

    ایک جگہ لکھا: (درعلل الشرائع روایت کردہ است از حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کہ چوں قائم ما ظاہر شود عائشہ رازندہ کند تا بر او حد بزند وانتقام فاطمہ را از او بکشد)۔
Flag Counter