| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
خاتمہ پر بِنا روزِ قیامت اور ظاہر پر مدار حکمِ شرع ہے، اس کو یوں سمجھو کہ کوئی کافر مثلاً یہودی یا نصرانی یا بُت پرست مر گیا تو یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کفر پر مرا، مگر ہم کو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا حکم یہی ہے کہ اُسے کافر ہی جانیں، اس کی زندگی میں اور موت کے بعد تمام وہی معاملات اس کے ساتھ کریں جو کافروں کے لیے ہیں، مثلاً میل جول، شادی بیاہ، نمازِ جنازہ، کفن دفن، جب اس نے کفر کیا تو فرض ہے کہ ہم اسے کافر ہی جانیں اور خاتمہ کا حال علمِ الٰہی پر چھوڑیں، جس طرح جو ظاہراً مسلمان ہو اور اُس سے کوئی قول و فعل خلافِ ایمان نہ ہو، فرض ہے کہ ہم اسے مسلمان ہی مانیں، اگرچہ ہمیں اس کے خاتمہ کا بھی حال معلوم نہیں۔
اِس زمانہ میں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ'' میاں...! جتنی دیر اسے کافر کہو گے، اُتنی دیر اﷲ اﷲ کروکہ یہ ثواب کی بات ہے۔'' اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ کافرکافر کا وظیفہ کرلو...؟! مقصود یہ ہے کہ اُسے کافر جانو اور پوچھا جائے تو قطعاً کافر کہو،ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
= اسی میں ہے : کفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الإسلام أو وقف فیھم أو شک أو صحح مذھبھم وإن أظھر الإسلام واعتقد إبطال کل مذھب سواہ فھو کافر بإظھار ما أظھر من خلاف ذلک، اھ ملخصاً۔
یعنی کافر ہے جو کافر نہ کہے ان لوگوں کو کہ غیر ملت اسلام کا اعتقاد رکھتے ہیں یا ان کے کفر میں شک لائے یا ان کے مذہب کو ٹھیک بتائے اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا اور مذہب اسلام کی حقانیت اور اس کے سواسب مذہبوں کے بطلان کا اعتقاد ظاہر کرتاہوکہ اس نے بعض منکر ضروریات دین کو جب کہ کافر نہ جانا تواپنے اس اظہار کے خلاف اظہار کر چکا ا ھ ملخصا ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۴۴۳۔۴۴۴.
وانظر ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۱، ص۳۷۸.
'' فتاوی رضویہ'' میں ہے : ( اللہ عزوجل نے کافر کو کافر کہنے کا حکم دیا: (قُلْ یَا اَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ) [پ۳۰، الکافرون: ۱] (اے نبی فرمادیجئے اے کافرو!) ہاں کافر ذمی کہ سلطنت اِسلام میں مطیع الاسلام ہوکر رہتا ہے اسے کافر کہہ کر پکارنا منع ہے اگر اسے ناگوار ہو۔
''در مختار'' میں ہے : (شتم مسلم ذمیاً عزر، وفي ''القنیۃ'': قال لیہودي أو مجوسي: یا کافر یأثم إن شق علیہ)۔
کسی مسلمان نے کسی ذمی کافر کو گالی دی تو اس پر تعزیر جاری کی جائے گی،''قنیہ'' میں ہے کسی یہودی یا آتش پرست کو''اے کافر'' کہا تو کہنے والا گنہگار ہوگا اگر اسے ناگوار گزرا، (ت)۔ ('' الدر المختار''، کتاب الحدود، باب التعزیر، ج۶، ص۱۲۳، ملتقطاً)۔
یوں ہی غیر سلطنت اسلام میں جبکہ کافر کو ''او کافر''کہہ کر پکارنے میں مقدمہ چلتاہو۔
فإنہ لا یحل لمسلم أن یذل نفسہ إلا بضرورۃ شرعیۃ۔
تو کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے مگر جبکہ کوئی شرعی مجبوری ہو۔ (ت)۔
مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ کافر کو کافرنہ جانے یہ خود کفر ہے۔ =