| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
عقیدہ (۶): مرتکبِ کبیرہ مسلمان ہے(1) اور جنت میں جائے گا، خواہ اﷲ عزوجل اپنے محض فضل سے اس کی مغفرت فرما دے، یا حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شفاعت کے بعد، یا اپنے کیے کی کچھ سزا پا کر، اُس کے بعد کبھی جنت سے نہ نکلے گا۔ (2)
مسئلہ: جو کسی کافر کے لیے اُس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے، یا کسی مردہ مُرتد کو مرحوم یا مغفور، یا کسی مُردہ ہندو کو بیکنٹھ باشی(3) کہے، وہ خود کافر ہے۔(4)
عقیدہ (۷): مسلمان کو مسلمان، کافر کو کافر جاننا ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ کسی خاص شخص کی نسبت یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا خاتمہ ایمان یا معاذاﷲ کفر پر ہوا، تاوقتیکہ اس کے خاتمہ کا حال دلیلِ شرعی سے ثابت نہ ہو، مگر اس سے یہ نہ ہوگا کہ جس شخص نے قطعاً کفر کیا ہو اس کے کُفر میں شک کیا جائے، کہ قطعی کافر کے کفر میں شک بھی آدمی کو کافر بنا دیتا ہے۔ (5)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ في ''العقائد'' لعمر النسفي، ص۲۲۱: (والکبیرۃ لا تخرج العبد المؤمن من الإیمان ولا تدخلہ في الکفر، واللہ تعالی لا یغفر أن یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء من الصغائر والکبائر)۔
في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۱۲: (إنّ مرتکب الکبیرۃ لیس بکافر والإجماع المنعقد علی ذلک علی ما مرّ)۔
''فتاویٰ رضویہ''، ج ۲۱، ص۱۳۱ پر ہے: ''اھلسنت کا اجماع ہے کہ مومن کسی کبیرہ کے سبب اسلام سے خارج نہیں ہوتا ''۔
('' الفتاوی الرضویۃ ''، ج۵، ص۱۰۱) .
2۔۔۔۔۔۔ في ''العقائد'' لعمر النسفي، ص۲۲۱: (وأھل الکبائر من المؤمنین لا یخلد ون في النار)۔
في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۱۷: (وأھل الکبائر من ا لمؤمنین لا یخلد ون في النار وإن ماتوا من غیر توبۃ لقولہ تعالٰی: (فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہ،)۔۔۔ إلخ۔ في ''عمدۃ القاري''، ج۱، ص۳۰۵: (مذھب أھل الحق علی أنّ من مات موحداً لا یخلد في النار وإن ارتکب من الکبائر غیر الشرک ما ارتکب وقد جاء ت بہ الأحادیث الصحیحۃ منھا قولہ علیہ السلام: ((وإن زنی وإن سرق))۔ وانظر ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۷۶۔
3۔۔۔۔۔۔ جنّتی۔
4۔۔۔۔۔۔ ''فتاوی رضویہ'' میں ہے: ( کافر کے لیے دعائے مغفرت و فاتحہ خوانی کفر خالص وتکذیبِ قرآن عظیم ہے کما فی ''العالمگیریہ'' و غیرھا )۔
(''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۱، ص۲۲۸) ۔
5۔۔۔۔۔۔ جو کسی منکرِ ضروریات دین کو کافر نہ کہے آپ کافر ہے ، امام علامہ قاضی عیاض قدس سرہ '' شفا شریف'' میں فرماتے ہیں : الإجماع علی کفر من لم یکفر أحداً من النصاری والیہود و کلّ من فارق دین المسلمین أو وقف فی تکفیرھم أو شک، قال القاضي أبو بکر: لأن التوقیف والإجماع اتفقا علی کفرھم فمن وقف فی ذلک فقد کذب النص والتوقیف أو شک فیہ، والتکذیب والشک فیہ لا یقع إلا من کافر۔ یعنی اجماع ہے اس کے کفر پر جو یہود ونصاری یا مسلمانوں کے دین سے جدا ہونیوالے کو کافر نہ کہے یا اس کے کافر کہنے میں توقف کرے یا شک لائے، امام قاضی ابوبکر باقلانی نے اس کی وجہ یہ فرمائی کہ نصوص شرعیہ و اجماعِ امت ان لوگوں کے کفر پر متفق ہیں تو جو ان کے کفر میں توقف کرتا ہے وہ نص وشریعت کی تکذیب کرتا ہے یا اس میں شک رکھتا ہے اور یہ امر کافر ہی سے صادر ہوتا ہے۔ =