Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
187 - 278
نہ یہ کہ اپنی صُلحِ کل سے(1) اس کے کُفر پر پردہ ڈالو۔ 

    تنبیہ ضروری: حدیث میں ہے:
 ((سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِيْ ثَلٰثًا وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً کُلُّھُمْ فِيْ النَّارِ إلاَّ وَاحِدَۃً.))
''یہ امت تہتّر فرقے ہو جائے گی، ایک فرقہ جنتی ہوگا باقی سب جہنمی۔'' 

    صحابہ نے عرض کی:
''مَنْ ھُمْ یَا رَسُوْلَ اللہِ؟''
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

=     من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۔ جس نے ان کے عذاب اور کفرمیں شک کیا تو وہ بلاشبہ کافر ہوگیا۔(ت) 

    (''الدر المختار''، کتاب الجہاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۵۶۔۳۵۷)۔

    اسی طرح جب کسی کافر کی نسبت پوچھا جائے کہ وہ کیسا ہے اس وقت اس کا حکم واقعی بتانا واجب ہے، حدیث میں ہے:

    ((أترعون من ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس))۔

    کیا تم بدکارکا ذکر کرنے سے گھبراتے اور خوف رکھتے ہو تو پھر لوگ اسے کب پہنچائیں گے لھذا بدکار کا ان برائیوں سے ذکر کرو جو اس میں موجود ہیں تاکہ لوگ اس سے بچیں اور ہوشیار رہیں۔ (ت)     ''نوادر الأصول'' للترمذي، الأصل السادس والستون والمائۃ، ص۲۱۳۔

    یہ کافر کہنابطور دُشنام نہیں ہوتا بلکہ حکم شرعی کا بیان، شرع مطہر میں کافر ہر غیر مسلم کا نام ہے۔

    قال اﷲ تعالٰی: (ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَمِنْکُمْ مُّؤْمِنٌ)۔ [پ۲۸، التغابن: ۲]۔

     اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: اللہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا پھر کچھ تمھارے اند ر کافر ہیں اور کچھ تمھارے اندر مومن ہیں (ت)۔

    سوالِ حکم کے وقت حکم کو چھپانا اگر یوں ہے کہ اسے یقینا کافر جانتاہے او راسے کافر کہنا معیوب نہیں جانتا مگر اپنی مصلحت کے سبب بچتاہے تو صرف گنہگار ہے جبکہ وہ مصلحت صحیحہ تاحد ضرورت شرعیہ نہ ہو، اور اگر واقعی کافر کوکافر کہنا معیوب وخلاف تہذیب جانتاہے تو قرآن عظیم کو عیب لگاتاہے اور قرآن عظیم کو عیب لگانا کفر ہے اور اسے کافر جانتاہی نہیں تو خود اس کے کافر ہونے میں کیا کلام ہے کہ اس نے کفر کو کفر نہ جانا تو ضرور کفر کو اسلام جانا لعدم الواسطۃ کیونکہ کفر اوراسلام کے درمیان کوئی واسطہ نہیں) تواسلام کو کفر جانا۔

    لأنّ ماکان کفراً فضدہ الإسلام فإذا جعلہ إسلاماً فقد جعل ضدہ کفراً؛ لأن الإسلام لا یضادہ إلا الکفر والعیاذ باﷲ تعالٰی۔

    اس لئے کہ جو کچھ کفر ہو تو اس کی ضد اسلا م ہے۔ پھر جب کفر کو اسلام ٹھرایا تو پھر اس کی ضد کفر ہوگی (یعنی اسلام کفر اور کفر اسلام ہوجائے گا) کیونکہ اسلام کے مخالف صرف کفر ہے اور اللہ تعالی کی پناہ (ت)۔          (''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۱، ص۲۸۵۔۲۸۶)۔

1۔۔۔۔۔۔ کل مذاہب کا ایک مآل سمجھ کر مختلف مذاہب کے لوگوں سے خصومت نہ کرنا اور دوست و دشمن سے یکساں برتاؤ رکھنا ۔

(''فرہنگ آصفیہ''، ج ۲ ، ص ۲۲۴)۔
Flag Counter