| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
امام شافعی کے نزدیک کتابی سے جزیہ(1) لیا جائے گا، مشرک سے نہ لیا جائے گا(2) اور کبھی شرک بول کر مطلق کفر مراد لیا جاتا ہے۔ یہ جو قرآنِ عظیم میں فرمایا: کہ ـ''شرک نہ بخشا جائے گا۔'' (3) وہ اسی معنی پر ہے، یعنی اَصلاً کسی کفر کی مغفرت نہ ہوگی، باقی سب گناہ اﷲ عزوجل کی مشیت پر ہیں، جسے چاہے بخش دے۔ (4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ اسلامی حکومت میں اھلِ کتاب یعنی عیسائیوں اور یہودیوں سے سالانہ ٹیکس۔
2۔۔۔۔۔۔ في ''تفسیر الخازن''، تحت الآیۃ: (قَاتِلُوا الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ) التوبۃ: ۲۹، ج۲، ص۲۳۰: (فذہب الشافعي إلی أنّ الجزیۃ علی الأدیان لا علی الأنساب فتؤخذ من أھل الکتاب عرباً کانوا أو عجماً ولا تؤخذ من عبدۃ الأوثان)۔ و''الہدایۃ''، کتاب السیر، باب الجزیۃ، الجزء الثاني، ج۱، ص۴۰۱۔
و''فتح القدیر''، کتاب السیر، باب الجزیۃ، ج ۵، ص۲۹۱۔۲۹۲۔
و''البنایۃ في شرح الہدایۃ''، کتاب السیر، باب الجزیۃ، ج۹، ص۳۴۶۔۳۴۷۔
3۔۔۔۔۔۔ ( اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ )، ( پ۵، النسآء : ۴۸)۔
4۔۔۔۔۔۔ ( وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ) (پ۵، النسآء: ۴۸)۔
في ''تفسیر روح البیان''، ج۲، ص۲۱۸: (( اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ ) أي: لا یغفر الکفر ممن اتصف بہ بلا توبۃ وإیمان؛ لأنّ الحکمۃ التشریعیۃ مقتضیۃ لسدّ باب الکفر وجواز مغفرتہ بلا إیمان مما یؤدي إلی فتحہ ولأنّ ظلمات الکفر والمعاصي إنّما یسترہا نور الإیمان فمن لم یکن لہ إیمان لم یغفر لہ شيء من الکفر والمعاصی( وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ) أي: ویغفر ما دون الشرک في القبح من المعاصي صغیرۃ کانت أو کبیرۃ تفضلاً من لدنہ وإحساناً من غیر توبۃ عنہا لکن لا لکل أحد بل (لِمَنْ یَّشَائُ) أن یغفر لہ ممن اتصف بہ فقط أي: لا بما فوقہ)۔
وفي ''روح المعاني''، الجزء الخامس، ص۶۸: (والشرک یکون بمعنی اعتقاد أنّ للہ تعالی شأنہ شریکاً إما في الألوہیۃ أو في الربوبیۃ ، وبمعنی الکفر ۔مطلقاً وہو المراد ہنا۔)۔
في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۰۷۔۱۰۸: (الکبیرۃ وقد اختلف الروایات فیھا فروی ابن عمر أنّہا تسعۃ: الشرک باللہ۔۔۔إلخ)۔
وفي ''مجموعۃ الحواشي البہیۃ''، ''حاشیۃ عصام الدین'' تحت ہذہ العبارۃ، ج۲، ص۲۱۸: (المراد مطلق الکفر وإلاّ لورد أنواع الکفر غیرہ)۔
في ''عمدۃ القاریئ شرح صحیح البخاري''،ج۱، ص۳۰۵: (المراد بالشرک في ہذہ الآیۃ الکفر؛ لأنّ من جحد نبوۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مثلاً کان کافراً ولو لم یجعل مع اللہ إلھاً آخر والمغفرۃ منتفیۃ عنہ بلا خلاف وقد یرد الشرک ویراد بہ ما ہو أخص من الکفر کما فی قولہ تعالی: (لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ ))۔
وانظر ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۷۶۔۲۷۷۔