| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
عقیدہ (۵): شرک کے معنی غیرِ خدا کو واجبُ الوجود یا مستحقِ عبادت جاننا، یعنی اُلوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا(1) اور یہ کفر کی سب سے بدتر قسم ہے، اس کے سوا کوئی بات اگرچہ کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃً شرک نہیں، ولہٰذا شرعِ مطہّر نے اھلِ کتاب کفّار کے احکام مشرکین کے احکام سے جدا فرمائے، کتابی کا ذبیحہ حلال، مشرک کا مُردار، کتابیہ سے نکاح ہو سکتا ہے، مشرکہ سے نہیں ہوسکتا۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث الأفعال کلھا بخلق اللہ تعالٰی، ص۷۸: (الإشتراک ھو إثبات الشریک في الألوھیۃ بمعنی وجوب الوجود کما للمجوس أو بمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الأصنام )۔
وانظر ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۱، ص۱۳۱.
2۔۔۔۔۔۔ (اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّہُمْ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ)(پ۶، المائدۃ: ۵)۔
وفي ''تفسیر الخازن''، المائدۃ: ۵، ج۱، ص۴۶۷۔۴۶۸: ((وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ) یعني: وذبائح أھل الکتاب حلّ لکم وہم الیہود والنصاری ومن دخل في دینھم من سائر الأمم قبل مبعث النبيصلی اللہ علیہ وسلم، فأما من دخل في دینھم بعد مبعث النبيصلی اللہ علیہ وسلم وہو متنصر والعرب من بنيتغلب فلا تحل ذبیحتہ روي عن علي بن أبي طالب قال: لا تأکل من ذبائح نصاری العرب بني تغلب فإنھم لم یتمسکوا بشيء من النصرانیۃ إلا بشرب الخمر، وبہ قال ابن مسعود،۔۔۔۔۔۔۔ وأجمعوا علی تحریم ذبائح المجوس وسائر أھل الشرک من مشرکي العرب وعبدۃ الأصنام ومن لا کتاب لہ۔
وقولہ تعالٰی: (وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ) یعني: وأحلّ لکم المحصنات من أھل الکتاب الیہود والنصاری قال ابن عباس: یعني: الحرائرمن أھل الکتاب)۔
انظر التفصیل لہذہ المسألۃ في رسالۃ الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن المسماۃ بـ''إعلام الأعلام بأنّ ہندوستان دار السلام''، ''الفتاوی الرضویۃ، ج۱۴، من ص۱۱۶إلی۱۲۲۔
(وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ) (پ۲، البقرۃ: ۲۲۱)۔
وفي ''تفسیر الخازن''، البقرۃ: ۲۲۱، ج۱، ص۱۶۰: (ومعنی الآیۃ ولا تنکحوا أیہا المؤمنون المشرکات حتی یؤمن أي: یصدقن باللہ ورسولہ وہو الإقرار بالشہادتین والتزام أحکام المسلمین)۔
انظر ''الدرالمختار'' و''رد المحتار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات، مطلب: مھم في وطء السراري اللاتي... إلخ، ج۴، ص۱۳۲تا۱۳۴۔ وانظر ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۶۲۱،۶۲۲.