Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
182 - 278
    مسئلہ: نفاق کہ زبان سے دعوی اسلام کرنا اور دل میں اسلام سے انکار، یہ بھی خالص کفر ہے(1)، بلکہ ایسے لوگوں کے لیے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے۔(2) حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کچھ لوگ اس صفت کے اس نام کے ساتھ مشہور ہوئے کہ ان کے کفرِ باطنی پر قرآن ناطق ہوا(3)، نیز نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے وسیع علم سے ایک ایک کو پہچانا اور فرما دیا کہ یہ منافق ہے۔(4) اب اِس زمانہ میں کسی خاص شخص کی نسبت قطع(5) کے ساتھ منافق نہیں کہا جاسکتا، کہ ھمارے سامنے جو دعوی اسلام کرے ہم اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے، جب تک اس سے وہ قول یا فعل جو مُنافیِ ایمان ہے نہ صادر ہو، البتہ نفاق کی ایک شاخ اِس زمانہ میں پائی جاتی ہے کہ بہت سے بد مذہب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے تو دعوی اسلام کے ساتھ ضروریاتِ دین کا انکار بھی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في ''تفسیر الخازن''، ج۱، ص۲۶: (وکفر نفاق، وہو أن یقرّ بلسانہ ولا یعتقد صحۃ ذلک بقلبہ)۔

     وفي ''تفسیر النسفي''، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸، ص۲۴: (ثم ثلث بالمنافقین الذین آمنوا بأفواھھم ولم تؤمن قلوبھم وھم أخبث الکفرۃ؛ لأنھم خلطوا بالکفر استھزاء وخداعا)۔

2۔۔۔۔۔۔ (اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا) ( پ۵، النسآء: ۱۴۵)۔

3۔۔۔۔۔۔ (وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنَافِقُوْنَ وَمِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ سَنُعَذِّبُہُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ) (پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۱)۔ 

4۔۔۔۔۔۔ عن ابن عباس، في قولہ: (وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنَافِقُوْنَ وَمِنْ اَہْلِ الْمَدِینَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ سَنُعَذِّبُہُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ) [التوبۃ: ۱۰۱]، قال: قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم جمعۃ خطیباً، فقال: ((قم یا فلا ن فاخرج ؛ فإنّک منافق، اخرج یا فلا ن فإنک منافق))، فأخرجھم بأسمائھم ففضحھم، ولم یکن عمر بن الخطاب شھد تلک الجمعۃ کانت لہ، فلقیھم عمر وھم یخرجون من المسجد فاختبأ منھم استحیاء أنہ لم یشھد الجمعۃ، وظنّ أنّ الناس قد انصرفوا، واختبؤا ھم من عمر، وظنوا أنہ قد علم بأمرھم، فدخل عمر المسجد فإذا الناس لم ینصرفوا. فقال لہ رجل: أبشر یا عمر فقد فضح اللہ المنافقین الیوم، فھذا العذ اب الأول، والعذ اب الثاني عذ اب القبر))۔

('' المعجم الأوسط''، من اسمہ أحمد، الحدیث: ۷۹۲، ج۱، ص۲۳۱)۔

5 ۔۔۔۔۔۔ یعنی یقین۔
Flag Counter