| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
اِن کا اختلاف حنفی، شافعی کا سا ہے، کہ دونوں اھلِ حق ہیں، کوئی کسی کی تضلیل و تفسیق نہیں کرسکتا۔(1)
مسئلہ (۲): ایمان قابلِ زیادتی و نقصان نہیں، اس لیے کہ کمی بیشی اُس میں ہو تی ہے جو مقدار یعنی لمبائی، چوڑائی، موٹائی یا گنتی رکھتا ہو اور ایمان تصدیق ہے اور تصدیق، کَیف یعنی ایک حالتِ اِذعانیہ۔(2) بعض آیات میں ایمان کا زیادہ ہونا جو فرمایا ہے اُس سے مراد مُؤمَن بہ ومُصدََّق بہ ہے، یعنی جس پر ایمان لایا گیا اور جس کی تصدیق کی گئی کہ زمانہ نزولِ قرآن میں اس کی کوئی حد معیّن نہ تھی، بلکہ احکام نازل ہوتے رہتے اور جو حکم نازل ہوتا اس پر ایمان لازم ہوتا، نہ کہ خود نفسِ ایمان بڑھ گَھٹ جاتا ہو، البتہ ایمان قابلِ شدّت و ضُعف ہے کہ یہ کَیف کے عوارض سے ہیں۔ (3) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
في ''شرح المقاصد''، الفصل الثالث: في الأسماء والأحکام، المبحث الثامن حکم المؤمن والکافر والفاسق، ج۳، ص۴۶۴۔۴۶۵: (والمشہور من أھل السنۃ في دیار ''خراسان'' و''العراق'' و''الشام'' وأکثر الأقطار ہم الأشاعرۃ أصحاب أبي الحسن، علي بن إسماعیل بن إسحٰق بن سالم بن إسماعیل بن عبد اللہ بن بلال بن أبي بردۃ بن أبي موسی الأشعري صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أول مَن خالف أبا علي الجبائي، ورجع عن مذہبہ إلی السنّۃ، أي: طریقۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم والجماعۃ أي: طریقۃ الصحابۃ. وفي دیار ''ما وراء النہر'' الماتریدیۃ أصحاب أبي منصور الماتریدي تلمیذ أبي نصر العیاض، تلمیذ أبي بکر الجوزجاني صاحب أبي سلیمان الجوزجاني، تلمیذ محمد بن الحسن الشیباني رحمہ اللہ و''ماترید'' من قری ''سمرقند''، وقد دخل الآن فیہا بین الطائفتین اختلاف في بعض الأصول، کمسألۃ التکوین، ومسألۃ الاستثناء في الإیمان، ومسألۃ إیمان المقلد وغیر ذلک. والمحققون من الفریقین لا ینسبون أحدھما إلی البدعۃ والضلالۃ خلافاً للمبطلین المتعصبین)، انظر''مجموعۃ حواشي البھیۃ''، ''حاشیہ المحقق مولانا عصام الدین علی شرح العقائد النسفیہ''، ج۲، ص ۳۱۔
وانظر ''حاشیۃ العلامۃ مولانا ولي الدین علی حاشیہ المحقق مولانا عصام الدین، ج۲، ص۳۱، و''النبراس''، بیان اختلاف الأشعریۃ والماتریدیۃ، ص۲۲، و''رد المحتار''، المقدمۃ، مطلب: یجوز تقلید المفضول مع وجود الأفضل، ج۱، ص۱۱۹۔
1۔۔۔۔۔۔ یعنی گمراہ اور فاسق نہیں کہہ سکتا۔
2۔۔۔۔۔۔ تصدیق، اعتماد ویقین کی ایک کیفیت کا نام ہے۔
3۔۔۔۔۔۔ في ''شرح العقائد النسفیہ''، ص۱۲۵۔۱۲۷: (إنّ حقیقۃ الإیمان لا تزید ولا تنقص لما مر من أنّہا التصدیق القلبي الذي بلغ حد الجزم والإذعان وھذا لا یتصور فیہ زیادۃ ولا نقصان حتی إنّ من حصل لہ حقیقۃ التصدیق فسواء أتی بالطاعات أو ارتکب المعاصي فتصدیقہ باق علی حالہ لا تغیر فیہ أصلا والآیات الدالۃ علی زیادۃ الإیمان محمولۃ علی ما ذکرہ أبو حنیفۃ أنھم کانوا آمنوا في الجملۃ ثم یأتي فرض بعد فرض وکانوا یؤمنون بکل فرض خاص وحاصلہ أنہ کان یزید بزیادۃ ما یجب بہ