Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
179 - 278
اِسی بنا پر خود اھلِ سنّت میں دو گروہ ہیں: ''ماتُرِیدیہ'' کہ امام عَلم الہدیٰ حضرت ابو منصور ماتریدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ(1) کے متّبع ہوئے اور ''اَشاعرہ'' کہ حضرت امام شیخ ابو الحسن اشعری رحمہ اﷲ تعالیٰ(2) کے تابع ہیں، یہ دونوں جماعتیں اھلِ سنّت ہی کی ہیں اور دونوں حق پر ہیں، آپس میں صرف بعض فروع کا اختلاف ہے۔ (3) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

کہ اور دلائل کی حجیت بھی اسی سے ظاہر ہوئی ہے مگر محال ہے کہ سواد اعظم کا اتفاق کسی برہان صحیح عقلی کے خلاف ہویہ گنتی کے جملے ہیں مگر بحمدہ تعالیٰ بہت نافع و سود مند، فعضوا علیہا بالنواجذ ( پس ان کو مضبوطی سے داڑھوں کے ساتھ پکڑلو ۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم''۔

1۔۔۔۔۔۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام ابو منصور محمد بن محمد بن محمود ماتریدی سمرقندی حنفی ہے آپ رحمۃ اللہ علیہ '' امام المتکلمین'' اور ''امام الھدی'' کے لقب سے مشہور ہیں ، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے عقائدِ مسلمین کی وضاحت اور باطل عقیدہ والوں کی تردید میں کئی کتب تصنیف فرمائی جن میں سے بعض کتابوں کے نام یہ ہیں : '' کتاب التوحید''، ''کتاب المقالات'' ، '' کتاب ردّ دلائل الکعبی'' اور ''کتاب تاویلات القرآن'' ، آپ رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے ساتھیوں کو ''سمرقند''کے ایک محلہ ''ماتُرید'' کی طرف نسبت کی وجہ سے ''ماتریدی'' کہا جاتا ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۳۳۳ ہجری میں ہوا ، آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار سمرقند میں ہے ۔     ( ''الفوائد البھیۃ'' ، ص ۲۵۵ ، ''ہدیۃ العارفین''، ج۲، ۳۶۔۳۷، ''معجم المؤلفین ''، ج ۳ ، ص ۶۹۲)۔

2۔۔۔۔۔۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام ابو الحسن علی بن اسماعیل بن اسحاق بن اسماعیل بن عبداللہ بن بلال ہے آپ رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ نسب صحابی ئرسول حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے جا ملتا ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ اکثر متکلمینِ اھل سنت کے رئیس ہیں، آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اصحاب کو ''اشاعرہ'' کہا جاتا ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی کئی کتب تصنیف فرمائی جن میں سے چند کے نام یہ ہیں: ''الفصول فی الرد علی الملحدین والخارجین عن الملۃ'' ،''الرد علی المجسمۃ'' ، '' کتاب مقالات الاسلامیین واختلاف المصلین''، آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۳۲۴ ہجری میں بغداد میں ہوا۔ 

(''النبراس''، ص۲۰، ''سیر أعلام النبلائ''، ج۱۱، ص۵۴۱ ''معجم المؤلفین''، ج۲، ص۴۰۵، ''الأعلام'' للزرکلي، ج۴، ص۲۶۳)۔

3۔۔۔۔۔۔ في ''البریقۃ المحمودیۃ''، الباب الأول، النوع الثاني، ج۱، ص۲۰۰: (عن عبد اللہ بن عمر رضي اللہ تعالی عنھما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لیأتین علی أمتي ما أتی علی بني إسرائیل حذو النعل بالنعل حتی إن کان منھم من أتی أمہ علانیۃ لکان في أمتي من یصنع ذلک وإن بني إسرائیل تفرقت علی ثنتین وسبعین ملۃ وتفترق أمتي علی ثلاث وسبعین ملۃ کلہم في النار إلاّ ملۃ واحدۃ)) قالوا: ومن ہي یا رسول اللہ قال: ((ما أنا علیہ وأصحابي)) وہي أھل السنۃ والجماعۃ من الماتریدیۃ والأشاعرۃ، فإن قیل: کل فرقۃ تدعي أنّہا أھل السنۃ والجماعۃ، قلنا: ذلک لا یکون بالدعوی بل بتطبیق القول والفعل وذلک بالنسبۃ إلی زماننا إنما یمکن بمطابقۃ صحاح الأحادیث ککتب الشیخین وغیرھما من الکتب التي أجمع علی وثاقتہا کما في ''المناوي''، فإن قیل: فما حال الاختلاف بین الأشاعرۃ والماتریدیۃ؟ قلنا: لاتحاد أصولھما لم یعد مخالفۃ معتدۃ؛ إذ خلاف کل فرقۃ لا یوجب تضلیل الأخری ولا تفسیقہا فعدتا ملۃ واحدۃ، وأما الخلاف في الفرعیات وإن کان کثرۃ اختلاف صورۃ لکن مجتمعۃ في عدم مخالفۃ الکل کتاباً نصاً ولا سنۃ قائمۃ ولا)۔
Flag Counter