ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
في أصول الدین والاعتقادیات بل لا بد من النظر والاستدلال لکن إیمان المقلد صحیح عند الحنفیۃ والظاہریۃ وہو الذی اعتقد جمیع ما وجب علیہ من حدوث العالم ووجود الصانع وصفاتہ وإرسال الرسل وما جاؤوا بہ حقاً من غیر دلیل؛ لأنّ النبي علیہ السلام قبل إیمان الأعراب والصبیان والنسوان والعبید والإماء من غیر تعلیم الدلیل ولکنہ یأثم بترک النظر والاستدلال لوجوبہ علیہ).
وفي ''تفسیر روح البیان''، پ۲۵، الزخرف، تحت الآیۃ: ۲۲: (بَلْ قَالُوْا اِنَّا وَجَدْنَا اٰبَاءَ نَا عَلٰی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰی اٰثَارِہِمْ مُّہْتَدُوْنَ) ج۸، ص۳۶۱: وفیہ ذم للتقلید وہو قبول قول الغیر بلا دلیل وہو جاءز في الفروع والعملیات ولا یجوز في أصول الدین والاعتقادیات بل لا بد من النظر والاستدلال لکن إیمان المقلد صحیح عند الحنفیۃ والظاہریۃ وہو الذی اعتقد جمیع ما وجب علیہ من حدوث العالم ووجود الصانع وصفاتہ وإرسال الرسل وما جاؤا بہ حقاً من غیر دلیل؛ لأن النبی علیہ السلام قبل إیمان الأعراب والصبیان والنسوان والعبید والإماء من غیر تعلیم الدلیل ولکن المقلد یأثم بترک النظر والاستدلال لوجوبہ علیہ، والمقصود من الاستدلال ہو الانتقال من الأثر إلی المؤثر ومن المصنوع إلی الصانع تعالی بأي وجہ کان، لا ملاحظۃ الصغری والکبری وترتیب المقدمات للإنتاج علی قاعدۃ المعقول فمن نشأ في بلاد المسلمین وسبح اللہ عند رؤیۃ صنائعہ فہو خارج عن حد التقلید کما في فصل الخطاب والعلم الضروري أعلی من النظري؛ إذ لا یزول بحال وہو مقدمۃ الکشف والعیان وعند الوصول إلی الشہود لا یبقی الاحتیاج إلی الواسطۃ.
''فتاوی رضویہ''، ج۲۹، ص۲۱۵ میں ہے: ''جس طرح فقہ میں چار اصول ہیں کتاب سنت، اجماع قیاس،عقائد میں چار اصول ہیں کتاب، سنت ، سواد اعظم، عقل صحیح، تو جو اِن میں ایک کے ذریعہ سے کسی مسئلہ عقائد کو جانتا ہے دلیل سے جانتا ہے نہ کہ بے دلیل محض تقلیداً اھل سنت ہی سواد اعظم اسلام ہیں،تو ان پر حوالہ دلیل پر حوالہ ہے نہ کہ تقلید۔ یوں ہی اقوالِ آئمہ سے استناد اسی معنیٰ پر ہے کہ یہ اھلسنت کا مذہب ہے ولھذا ایک دو دس بیس علماء کبا ر ہی سہی اگر جمہور و سواد اعظم کے خلاف لکھیں گے اس وقت ان کے اقوال پر نہ اعتماد جاءز نہ استناد کہ اب یہ تقلید ہوگی اور وہ عقائد میں جاءز نہیں،اس دلیل اعنی سواد اعظم کی طرف ہدایت اﷲو رسول جل و علا وصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی کمال رحمت ہے،ہر شخص کہاں قادر تھا کہ عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت کرے عقل تو خود ہی سمعیات میں کافی نہیں ناچار عوام کو عقائد میں تقلید کرنی ہوتی،لھذا یہ واضح روشن دلیل عطا فرمائی کہ سوادِ اعظم مسلمین جس عقیدہ پر ہو وہ حق ہے اس کی پہچان کچھ دشوار نہیں،صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم کے وقت میں تو کوئی بدمذہب تھا ہی نہیں اور بعد کو اگرچہ پیدا ہوئے مگر دنیا بھر کے سب بدمذہب ملا کر کبھی اھلسنت کی گنتی کو نہیں پہنچ سکےﷲالحمد فقہ میں جس طرح اجماع اقوی الاَدِلّہ ہے کہ اجماع کے خلاف کا مجتہد کو بھی اختیار نہیں اگرچہ وہ اپنی رائے میں کتاب و سنت سے اس کا خلاف پاتا ہو یقیناً سمجھا جائے گا کہ یا فہم کی خطا ہے یا یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے اگرچہ مجتہد کو اس کا ناسخ نہ معلوم ہویونہی اجماع امت تو شے عظیم ہے سواد اعظم یعنی اھلسنت کا کسی مسئلہ عقائد پر اتفاق یہاں اقوی الادلہ ہے کتاب و سنت سے اس کا خلاف سمجھ میں آئے تو فہم کی غلطی ہے حق سوادِ اعظم کے ساتھ ہے اور ایک معنی پر یہاں اقوی الادلہ عقل ہے