Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
177 - 278
کفر ہے، جبکہ یہ حکم ضروریاتِ دین سے ہو، یا منکر اس حکمِ قطعی سے آگاہ ہو۔ (1) 

    مسئلہ (۱): اُصولِ عقائد میں تقلید جاءز نہیں بلکہ جو بات ہو یقینِ قطعی کے ساتھ ہو، خواہ وہ یقین کسی طرح بھی حاصل ہو، اس کے حصول میں بالخصوص علمِ استدلالی(2) کی حاجت نہیں، ہاں! بعض فروعِ عقائد میں تقلید ہوسکتی ہے(3) ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في ''منح الروض الأزہر''، استحلال المعصیۃ، ص۱۵۲: (إذا اعتقد الحرام حلالاً، فإن کان حرمتہ لعینہ وقد ثبت بدلیل قطعي یکفر وإلاّ فلا بأن تکون حرمتہ لغیرہ أو ثبت بدلیل ظنيّ، وبعضھم لم یفرّق بین الحرام لعینہ ولغیرہ، فقال: من استحلّ حراماً وقد علم في دین النبي صلی اللہ علیہ وسلم تحریمہ کنکاح ذوي المحارم أو شرب الخمر أو أکل میتۃ أو دم أو لحم خنزیر من غیر ضرورۃ فکافر).

    فیہ في فصل في الکفر صریحا وکنایۃ، ص۱۸۸: (ومن استحلّ حراماً وقد علم تحریمہ في الدین: أي: ضرورۃ، کنکاح المحارم أو شرب الخمر أو أکل المیتۃ والدم ولحم الخنزیر أي: في غیر حال الاضطرار ومن غیر إکراہ بقتل أو ضرب فظیع لا یحتملہ، وعن محمد رحمہ اللہ بدون الاستحلال ممن ارتکب کفر، أي: في روایۃ شاذۃ عنہ ولعلھا محمولۃ علی مرتکب نکاح المحارم فإن سیاق الحال یدل علی الاستحلال لبقیۃ المحرمات، واللہ أعلم بالأحوال، قال: والفتوی علی التردید إن استعمل مستحلاً کفر وإلاّ، لا)۔ 

    في ''تفسیر الخازن''، ج۱، ص۴۶۸: (وقیل: إنّ من أحل ما حرم اللہ أو حرم ما أحل اللہ أو جحد بشیء مما أنزل اللہ فقد کفر باللہ وحبط عملہ المتقدم)۔

    ''فتاوی رضویہ'' میں ہے : ''کتب عقائد میں تصریح ہے کہ تحلیل حرام وتحریم حلال دونوں کفرہیں یعنی جو شے مباح ہو جسے اللہ ورسول نے منع نہ فرمایا اسے ممنوع جاننے والا کافر ہے جبکہ اس کی اباحت وحلت ضروریاتِ دین سے ہو یا کم از کم حنفیہ کے طور پر قطعی ہو ورنہ اس میں شک نہیں کہ بے منع خدا و رسول منع کرنے والا شریعتِمطہرہ پر افتراء کرتاہے اور اللہ عزوجل پر بہتان اٹھاتاہے اور اس کا ادنی درجہ فسق شدید وکبیرہ وخبیثہ ہے ۔

    قال اللہ تعالٰی: (وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلَالٌ وَّہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللہِ الْکَذِبَ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ )۔ اور جو کچھ تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں (اس کے متعلق یہ نہ کہا کرو کہ )یہ حلال او ریہ حرام ہے تاکہ تم اللہ تعالی پر جھوٹ باندھو (یاد رکھو) جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوتے۔ (ت)

    وقال اﷲ تعالٰی (نیز اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا۔ ت): (اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ)۔

    اللہ تعالیٰ کے ذمے وہی لوگ جھوٹا الزام لگاتے ہیں (جو درحقیقت) ایمان نہیں رکھتے (ت)۔ (''الفتاوی الرضویۃ ''، ج۲۱، ص۱۷۵) .

2۔۔۔۔۔۔ وہ علم جو دلیل کا محتاج ہو۔ 

3۔۔۔۔۔۔ في ''تفسیر روح البیان''، پ۱۷، الأنبیاء، تحت الآیۃ: ۵۳۔۵۴، ج۵، ص۴۹۱: (قَالُوْا وَجَدْنَا اٰبَاءَ نَا لَہَا عَابِدِیْنَ قَالَ لَقَدْ کُنْتُمْ اَنْتُمْ وَاٰبَاؤُکُمْ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ) واعلم أنّ التقلید قبول قول الغیر بلا دلیل وہو جاءز في الفروع والعملیات ولا یجوز
Flag Counter