| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
یوہیں بعض اعمال کفر کی علامت ہیں، جیسے زُنّار(1) باندھنا، سر پر چُوٹیا(2) رکھنا، قَشْقَہْ(3) لگانا، ایسے افعال کے مرتکب کو فقہائے کرام کافر کہتے ہیں۔(4) تو جب ان اعمال سے کفر لازم آتا ہے تو ان کے مرتکب کو از سرِ نو اسلام لانے اور اس کے بعد اپنی عورت سے تجدیدِ نکاح کا حکم دیا جائے گا۔(5)
عقیدہ (۳): جس چیز کی حِلّت، نصِّ قطعی سے ثابت ہو(6) اُس کو حرام کہنا اور جس کی حُرمت یقینی ہو اسے حلال بتاناــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
الاستخفاف بالدین، کالصلاۃ بلا وضوء عمداً، بل) قد حکموا بالکفر (بالمواظبۃ علی ترک سنۃ استخفافاً بہا بسبب أنّہا إنّما فعلہا النبي زیادۃ، أو استقباحہا) بالجر عطفاً علی المواظبۃ: أي: بل قد کفّر الحنفیۃ من استقبح سنۃ (کمن استقبح من) إنسان (آخر جعل بعض العمامۃ تحت حلقہ أو) استقبح منہ (إخفاء شاربہ).
وانظر ''منح الروض الأزہر''، ص۱۵۲، و''رد المحتار''، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۳۔
1۔۔۔۔۔۔ وہ دھاگہ یا ڈوری جو ہندو گلے سے بغل کے نیچے تک ڈالتے ہیں، اور عیسائی ، مجوسی اور یہودی کمر میں باندھتے ہیں۔
''اردو لغت تاریخی اصول پر'' ، ج۱۱، ص۱۶۲۔
2۔۔۔۔۔۔ وہ چند بال جو بچے کے سر پر منت مان کر ہندو رکھتے ہیں ۔ ''فرہنگ آصفیہ''، ج۱، ص۱۰۴۔
3۔۔۔۔۔۔ پیشانی پر صندل یا زعفران کے دو نشانات، ٹیکا، تلک جو ہندو ماتھے پر لگاتے ہیں۔ ''اردو لغت تاریخی اصول پر'' ، ج۱۴، ص۲۵۴۔
4۔۔۔۔۔۔ في ''منح الروض الأ زہر'' للقاریئ، فصل في الکفر صریحا وکنایۃ، ص۱۸۵: (ولو شد الزنار علی وسطہ أو وضع الغل علی کتفہ فقدکفر، أي: إذا لم یکن مکرہاً في فعلہ، وفي ''الخلاصۃ'': ولو شد الزنار قال أبو جعفر الأستروشني: إن فعل لتخلیص الأساری لا یکفر، وإلا کفر)۔
''فتاوی رضویہ'' میں ہے: ''اگر وہ وضع اُن کفار کا مذہبی دینی شعار ہے جیسے زنار ، قشقہ، چُٹیا، چلیپا، تو علماء نے اس صورت میں بھی حکم کفر دیا کما سمعت آنفاً''۔ (''فتاوی رضویہ'' ، جلد۲۴، ص ۵۳۲) ۔
''فتاوی رضویہ'' میں ہے :''ماتھے پر قشقہ تِلک لگانا یاکندھے پر صلیب رکھنا کفر ہے ''۔ (''فتاوی رضویہ ''، جلد۲۴، ص ۵۴۹) ۔
''فتاوی رضویہ'' میں ہے : '' قشقہ ضرور شعارِ کفر ومنافیِ اسلام ہے جیسے زُنار، بلکہ اس سے زائد کہ وہ جسم سے جدا ایک ڈورا ہے جو اکثر کپڑوں کے نیچے چھپا رہتا ہے اور یہ خاص بدن پر اور بدن میں بھی کہاں چہرے پر ، اور چہرے میں کس جگہ ماتھے پر جو ہر وقت چمکے اور دور سے کھلے حرفوں میں منہ پر لکھا دکھائے کہ ھذا من الکافرین ''۔ (''فتاوی رضویہ'' ، ج۱۴، ص۳۹۳) ۔
5۔۔۔۔۔۔ في ''العقود الدریۃ''، باب الردۃ والتعزیر، ج۱، ص۱۰۱: (وقال في ''البزازیۃ'': ولو ارتد ۔والعیاذ باللہ تعالی۔ تحرم امرأتہ ویجدّد النکاح بعد إسلامہ ویعید الحج۔۔۔ إلخ)۔
6۔۔۔۔۔۔ جس چیزکا حلال ہونا ایسی صریح واضح اور یقینی دلیل سے ہو جس میں تاویل وتوجیہ کی کوئی گنجاءش ہی نہ ہو ۔