| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
کہ بلا اِکراہِ شرعی(1) مسلمان کلمہ کفر صادر نہیں کر سکتا، وہی شخص ایسی بات منہ پر لائے گا جس کے دل میں اتنی ہی وقعت ہے کہ جب چاہا اِنکار کر دیا اور ایمان تو ایسی تصدیق ہے جس کے خلاف کی اصلاً گنجاءش نہیں۔(2)
مسئلہ(۱): اگر معاذ اﷲ کلمہ کفر جاری کرنے پر کوئی شخص مجبور کیا گیا، یعنی اُسے مار ڈالنے یا اُس کا عضو کاٹ ڈالنے کی صحیح دھمکی دی گئی کہ یہ دھمکانے والے کو اس بات کے کرنے پر قادر سمجھے تو ایسی حالت میں اس کو رخصت دی گئی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ دل میں وہی اطمینانِ ایمانی ہو جو پیشتر تھا ، مگر افضل جب بھی یہی ہے کہ قتل ہو جائے اور کلمہ کفر نہ کہے۔ (3)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
= وفي شرحہ ''رد المحتار'': قولہ: (من ہزل بلفظ کفر) أي تکلم بہ باختیارہ غیر قاصد معناہ، وھذا لا ینافي ما مر من أنّ الإیمان ہو التصدیق فقط أو مع الإقرار؛ لأنّ التصدیق وإن کان موجوداً حقیقۃ لکنہ زائل حکماً؛ لأنّ الشارع جعل بعض المعاصي أمارۃ علی عدم وجودہ کالہزل المذکور، وکما لو سجد لصنم أو وضع مصحفاً في قاذورۃ فإنہ یکفر وإن کان مصدّقاً؛ لأنّ ذلک في حکم التکذیب، کما أفادہ في ''شرح العقائد''، وأشار إلی ذلک بقولہ: (للاستخفاف) فإن فعل ذلک استخفافاً واستہانۃ بالدین فہو أمارۃ عدم التصدیق، ولذا قال في ''المسایرۃ'': وبالجملۃ فقد ضم إلی التصدیق بالقلب، أو بالقلب واللسان فی تحقیق الإیمان أمور، الإخلال بہا إخلال بالإیمان اتفاقاً کترک السجود لصنم وقتل نبی والاستخفاف بہ، وبالمصحف والکعبۃ، وکذا مخالفۃ أو إنکار ما أجمع علیہ بعد العلم بہ؛ لأنّ ذلک دلیل علی أن التصدیق مفقود، ثم حقّق أن عدم الإخلال بہذہ الأمور أحد أجزاء مفہوم الإیمان، فہو حینئذ التصدیق والإقرار وعدم الإخلال بما ذکر، بدلیل أنّ بعض ہذہ الأمور تکون مع تحقّق التصدیق والإقرار۔ ''رد المحتار''، ج۶، ص۳۴۳۔
في ''الخانیۃ'': (رجل کفر بلسانہ طائعاً، وقلبہ علی الإیمان یکون کافراً ولا یکون عند اللہ تعالی مؤمناً)۔
''فتاوی قاضی خان''، کتاب السیر، ج۲، ص۴۶۷۔ انظر للتفصیل ''المسایرۃ''، ص۳۳۷۔۳۵۷۔
1۔۔۔۔۔۔ بغیر شرعی مجبوری کے۔
2۔۔۔۔۔۔ في''شرح العقائد النسفیۃ ''، ص۱۲۱: (إنّ التصدیق رکن لا یحتمل السقوط أصلاً)۔
انظر ''النبراس''، أن الإیمان في الشرع ھو التصدیق، ص۲۴۹۔۲۵۰.
''فتاوی رضویہ'' میں ہے : (بلا اکراہ کلمہ کفر بولنا خود کفر، اگرچہ دل میں اس پر اعتقاد نہ رکھتا ہو ، اور عامہ علماء فرماتے ہیں کہ: اِس سے نہ صرف مخلوق کے آگے بلکہ عند اللہ بھی کافر ہوجائے گا کہ ُاس نے دین کو معاذ اللہ کھیل بنایا اور اُس کی عظمت خیال میں نہ لایا) ۔
''فتاوی رضویہ'' ، ج۱۴، ص۳۹۳ ۔ و ج۲۷، ص۱۲۵۔
اسی میں ہے: (جو بلا اکراہ کلمہ کفر بکے بلا فرقِ نیت مطلقا ًقطعاً یقینا اِجماعاً کافر ہے )۔ ''فتاوی رضویہ'' ، ج۱۴، ص۶۰۰ ۔
3۔۔۔۔۔۔ في ''رد المحتار''، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۶: ((ومکرہ علیھا) أي: علی الردۃ، والمراد الإکراہ بملجیء من قتل أو قطع عضو أو ضرب مبرّح فإنّہ یرخص لہ أن یظھر ما أمر بہ علی لسانہ وقلبہ مطمئن بالإیمان).