| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
کے رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے، کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا، البتہ ان کے مسلمان ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں۔
عقیدہ (۱): اصلِ ایمان صرف تصدیق کا نام ہے(1)، اعمالِ بدن تو اصلاً جزو ایمان نہیں(2)، رہا اقرار، اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر تصدیق کے بعد اس کو اظہار کا موقع نہ ملا تو عند اﷲ(3) مومن ہے اور اگر موقع ملا اور اُس سے مطالبہ کیا گیا اور اقرار نہ کیا تو کافر ہے اور اگر مطالبہ نہ کیا گیا تو احکام دنیا میں کافر سمجھا جائے گا، نہ اُس کے جنازے کی نماز پڑھیں گے، نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں گے، مگر عند اﷲ مومن ہے اگر کوئی امر خلافِ اسلام ظاہر نہ کیا ہو۔(4)
عقیدہ (۲): مسلمان ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ زبان سے کسی ایسی چیز کا انکار نہ کرے جو ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ باقی باتوں کا اقرار کرتا ہو، اگرچہ وہ یہ کہے کہ صرف زبان سے انکار ہے دل میں انکار نہیں(5)، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ في''المسایرۃ'': (ھو التصدیق بالقلب فقط)۔
''فتاوی رضویہ'' ، جلد ۱۴، ص ۱۲۴ پر ہے: (ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے)۔
2۔۔۔۔۔۔ في'' شرح العقائد النسفیۃ ''، مبحث الإیمان: ص۱۲۰۔۱۲۴: (أنّ الأعمال غیر داخلۃ في الإیمان لما مرّ من أنّ حقیقۃ الإیمان ھو التصد یق)۔
في ''الحدیقۃ الندیۃ ''، ج۱، ص۲۸۲: (والأعمال بالجوارح خارجۃ عن حقیقتہ أي: حقیقۃ الإیمان).
3۔۔۔۔۔۔ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک۔
4۔۔۔۔۔۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ''، وشرحہ ''النبراس''، ص۲۵۰: ''((إنما الإقرار شرط لإجراء الأحکام في الدنیا) من حرمۃ الدم والمال وصلاۃ الجنازۃ علیہ ودفنہ في مقابر المسلمین وہہنا مذ ہب ثالث وہو أن الإقرار لیس برکن إلا عند الطلب فمن طلب منہ الإ قرار فسکت من غیر عذر فہو کافر عند اللہ سبحانہ (لما أن التصد یق بالقلب أمر باطن لا بد لہ من علا مۃ فمن صدق بقلبہ ولم یقر بلسانہ فھو مؤمن عند اللہ سبحانہ وإن لم یکن مؤمناً في أحکام الدنیا) وھذا إذا لم یکن مباشراً لعلامات التکذیب وإلا فھو کافر عند اللہ أیضاً خلافاً لبعضھم)۔
وفي ''الدر المختار'': والإقرار شرط لإجراء الأحکام الدنیویۃ بعد الاتفاق علی أنّہ یعتقد متی طولب بہ أتی بہ، فإن طولب بہ فلم یقر فھو کفر عناد). ''الدرالمختار''، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۲.
5۔۔۔۔۔۔ وفي ''الدر المختار'': (من ہزل بلفظ کفر ارتد، وإن لم یعتقدہ للاستخفاف فہو ککفر العناد)۔