Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
172 - 278
ایمان و کفر کا بیان
    ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے اُن سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں اور کسی ایک ضرورتِ دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو۔ ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں، جیسے اﷲ عزوجل کی وحدانیت، انبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا(1)، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔(2) عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقہ علما میں نہ شمار کیے جاتے ہوں، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں(3)، نہ وہ کہ کوردہ(4) اور جنگل اور پہاڑوں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ'': (إنّ الإیمان في الشرع ھو التصدیق بما جاء بہ من عند اللہ تعالی، أي: تصدیق النبي بالقلب في جمیع ما علم بالضرورۃ مجیئہ بہ من عند اللہ تعالی)۔ ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث الإیمان، ص۱۲۰۔

     في ''المسامرۃ'' و''المسایرۃ''، الکلام فيمتعلق الإیمان، ص۳۳۰: (الإیمان (ھو التصدیق بالقلب فقط)، أي: قبول القلب وإذعانہ لما علم بالضرورۃ أنّہ من دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم، بحیث تعلمہ العامۃ من غیر افتقار إلی نظر ولا استدلال کالوحدانیۃ والنبوۃ والبعث والجزاء ووجوب الصلاۃ والزکاۃ وحرمۃ الخمر ونحوہا، ویکفي الإجمال فیما یلاحظ إجمالاً کالإیمان بالملا ئکۃ والکتب والرسل، ویشترط التفصیل فیما یلاحظ تفصیلا کجبریل ومیکائیل وموسی وعیسی والتوراۃ والإنجیل، حتی إنّ من لم یصدق بواحد معین منھا کافر (و) القول بأن مسمی الإیمان ھذا التصدیق فقط (ہو المختار عند جمہور الأشاعرۃ) وبہ قال الماتریدي).

    ''الأشباہ والنظائر''، الفن الثاني، کتاب السیر، ص۱۵۹.

    ''البحر الرائق''، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۵، ص ۲۰۲.

    ''الدر المختار'' کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۲.

2۔۔۔۔۔۔ في ''الہندیۃ''، کتاب السیر، الباب في أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۳: (إذا لم یعرف الرجل أنّ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم آخر الأنبیاء علیہم وعلی نبینا السلام فلیس بمسلم؛ لأنّہ من الضروریات)۔

    ''الأشباہ والنظائر''، الفن الثاني، کتاب السیر، ص۱۶۱.

3۔۔۔۔۔۔ وفسرت الضروریات بما یشترک في علمہ الخواص والعوام، أقول: المراد العوام الذین لہم شغل بالدین واختلاط بعلمائہ۔۔۔ إلخ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الطھارۃ، باب الوضوئ، ج۱، ص۱۸۱۔

4۔۔۔۔۔۔ یعنی کم آباد اور چھوٹا گاؤں، جسے کوئی نہ جانتا ہواور نہ ہی وہاں تعلیم کا کوئی سلسلہ ہو۔
Flag Counter