Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
171 - 278
کافر یہ سمجھے گا کہ اس کے سوا اب کوئی آگ میں نہ رہا(1)، اور یہ عذاب بالائے عذاب ہے اور اب ہمیشہ اس کے لیے عذاب ہے۔ 

    جب سب جنتی جنت میں داخل ہولیں گے اور جہنم میں صرف وہی رہ جائیں گے جن کو ہمیشہ کے لیے اس میں رہنا ہے، اس وقت جنت و دوزخ کے درمیان موت کو مینڈھے کی طرح لا کر کھڑا کریں گے، پھر مُنادی (2) جنت والوں کو پکارے گا، وہ ڈرتے ہوئے جھانکیں گے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہاں سے نکلنے کا حکم ہو، پھر جہنمیوں کو پکارے گا،وہ خوش ہوتے ہوئے جھانکیں گے کہ شاید اس مصیبت سے رہائی ہو جائے، پھر ان سب سے پوچھے گا کہ اسے پہچانتے ہو؟ سب کہیں گے: ہاں! یہ موت ہے، وہ ذبح کر دی جائے گی اور کہے گا: اے اھلِ جنت! ہمیشگی ہے، اب مرنا نہیں اور اے اھلِ نار! ہمیشگی ہے، اب موت نہیں، اس وقت اُن کے لیے خوشی پر خوشی ہے اور اِن کے لیے غم بالائے غم۔ (3)
نَسْألُ اللہَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِي الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ.
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ عن سوید بن غفلۃ رضي اللہ عنہ قال: ((إذا أراد اللہ أن یُنسی أھل النار جعل للرجل منھم صندوقا علی قدرہ من نار لا ینبض منہ عِرق إلاّ فیہ مسمار من نار، ثم تضرم فیہ النار، ثم یقفل بقفل من نار، ثم یجعل ذلک الصندوق في صندوق من نار، ثم یضرم بینھما نار، ثم یقفل بقفل من نار، ثم یجعل ذلک الصندوق في صندوق من نار، ثم یضرم بینھما نار ثم یقفل، ثم یلقی أو یطرح في النار فذلک قولہ: (مِنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللہُ بِہٖ عِبَادَہٗ یَا عِبَادِ فَاتَّقُوْنِ) [الزمر:۱۶] وذلک قولہ: (لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّہُمْ فِیْہَا لَا یَسْمَعُوْنَ)[الأنبیاء :۱۰۰] قال: فما یری أنّ في النار أحداً غیرہ)). ''البعث والنشور'' للبیہقي، ج۲، ص۶۱، الحدیث: ۵۲۴. ''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، الترھیب من النار أعاذنا اللہ... إلخ، الحدیث: ۹۲، ج۴، ص۲۶۸.

2۔۔۔۔۔۔ پکارنے والا

3۔۔۔۔۔۔ في روایۃ ''البخاري'': کتاب الرقاق: عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إذا صار أھل الجنۃ إلی الجنۃ وأھل النار إلی النار جيء بالموت حتی یجعل بین الجنۃ والنار۔۔۔۔۔۔ ، وفي روایۃ ''البخاري'': کتاب التفسیر:۔۔۔۔۔۔ یؤتی بالموت کہیئۃ کبش أملح، فینادي مناد: یا أھل الجنۃ،۔۔۔۔۔۔ وفي روایۃ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الزھد،۔۔۔۔۔۔ یا أھل الجنۃ فیطّلعون خائفین وجِلین أن یخرجوا من مکانھم الذي ھم فیہ، ثم یقال: یا أھل النار فیطّلعون مستبشرین فرحین أن یخرجوا من مکانھم الذي ھم فیہ، فیقال: ھل تعرفون ھذا؟ قالوا: نعم، ھذا الموت۔۔۔۔۔۔ وفي روایۃ ''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، ۔۔۔۔۔۔فیذبح، ثم یقول: یا أھل الجنۃ خلود فلا موت، ویا أھل النار خلود فلا موت۔۔۔۔۔۔ وفي روایۃ ''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق: ۔۔۔۔۔۔ فیزداد أھل الجنۃ فرحاً إلی فرحہم، ویزداد أھل النار حزناً إلی حزنھم)). ''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار، ج۴، ص۲۶۰، الحدیث: ۶۵۴۸. ''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، ج۳، ص۲۷۱، الحدیث: ۴۷۳۰. و''سنن ابن ماجہ''، کتاب الزھد، باب صفۃ النار، الحدیث: ۴۳۲۷، ج۴، ص۵۳۲.
Flag Counter