Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
168 - 278
اگر اس کا ایک قطرہ دنیا میں آئے تو اس کی سوزش و بدبُو تمام اھلِ دنیا کی معیشت برباد کردے (1) اور وہ گلے میں جا کر پھندا ڈالے گا(2)، اس کے اتارنے کے لیے پانی مانگیں گے، اُن کو وہ کُھولتا پانی دیا جائے گا کہ مونھ کے قریب آتے ہی مونھ کی ساری کھال گل کر اس میں گِر پڑے گی، اور پیٹ میں جاتے ہی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا (3) اور وہ شوربے کی طرح بہہ کر قدموں کی طرف نکلیں گی (4)، پیاس اس بلا کی ہوگی کہ اس پانی پر ایسے گریں گے جیسے تونس (5) کے مارے ہوئے اونٹ(6)، پھر کفّار جان سے عاجز آکرباہم مشورہ کر کے مالک علیہ الصلاۃ والسلام داروغہ جہنم (7) کو پکاریں گے: کہ اے مالک (علیہ الصلاۃ والسلام)! تیرا رب ھمارا قصہ تمام کر دے، مالک علیہ الصلاۃ والسلام ہزار برس تک جواب نہ دیں گے، ہزار برس کے بعد فرمائیں گے: مجھ سے کیا کہتے ہو،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لو أنّ قطرۃ من الزقوم قطرت في دار الدنیا لأفسدت علی أھل الدنیا معایشھم، فکیف بمن یکون طعامہ)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم ، باب ماجاء في صفۃ شراب أھل النار، الحدیث: ۲۵۹۴، ج۴، ص۲۶۳. 

2۔۔۔۔۔۔ في''تفسیر الطبري''، ج۱۲، ص۲۸۹: عن ابن عباس، في قولہ:(وَطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ) قال: (شوک یأخذ بالحلق، فلا یدخل ولا یخرج).

3۔۔۔۔۔۔ (وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَاءٍ کَالْمُہْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ بِئْسَ الشَّرَابُ).پ۱۵، الکہف:۲۹.

     عن أبي الدرداء قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یلقی علی أھل النار الجوع، فیعدل ما ھم فیہ من العذاب، فیستغیثون فیغاثون بطعام من ضریع، لا یسمن ولا یغني من جوع، فیستغیثون بالطعام فیغاثون بطعام ذي غصۃ، فیذکرون أنّھم کانوا یجیزون الغصص في الدنیا بالشّراب فیستغیثون بالشراب، فیدفع إلیھم الحمیم بکلالیب الحدید، فإذا دنت من وجوھھم شوّت وجوھھم، فإذا دخلت بطونھم قطّعت ما في بطونھم...إلخ)).''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم، باب ماجاء في صفۃ طعام أھل النار، الحدیث:۲۵۹۵، ج۴، ص۲۶۴.

4۔۔۔۔۔۔ في''تفسیر الطبري'' پ۱۳، ابراہیم:۱۶۔۱۷، ج۷، ص۴۳۰، عن أبي أمامۃ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم في قولہ: (وَیُسْقٰی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ یَتَجَرَّعُہُ)، فإذا شَربہ قَطَّع أمعاء َہ حتی یخرج من دُبُرہ، یقول اللہ عز وجل:(وَسُقُوْا مَائً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاءَ ہُمْ)، ویقول:(وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَاءٍ کَالْمُہْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ بِئْسَ الشَّرَابُ).

5۔۔۔۔۔۔ یعنی انتہائی شدید پیاس۔

6۔۔۔۔۔۔ عن ابن عباس رضي اللہ عنھما في قولہ: ((شُرْبَ الْہِیْمِ)، قال: کشرب الإبل العطاش).

     وفي روایۃ: عن مجاہد في قولہ تعالی: ((شُرْبَ الْہِیْمِ)، قال: شرب الہیم ہو داء یکون في الإبل تشرب ولا تروی). ''البدورالسافرۃ'' للسیوطي، باب طعام أھل النار وشرابہم، الحدیث:۱۴۴۶، ص۴۲۸.            

7۔۔۔۔۔۔ جہنم کے محافظ۔
Flag Counter