| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
گردن برابر بچھو اور اﷲ (عزوجل) جانے کس قدر بڑے سانپ کہ اگر ایک مرتبہ کاٹ لیں تو اس کی سوزش، درد، بے چینی ہزار برس تک رہے(1)، تیل کی جلی ہوئی تلچھٹ (2) کی مثل سخت کَھولتا پانی پینے کو دیا جائے گا، کہ مونھ کے قریب ہوتے ہی اس کی تیزی سے چہرے کی کھال گر جائے گی۔ (3) سر پر گرم پانی بہایا جائے گا۔ (4)
جہنمیوں کے بدن سے جو پیپ بہے گی وہ پلائی جائے گی (5)، خاردار تُھوہڑ (6) کھانے کو دیا جائے گا (7)، وہ ایسا ہو گا کہــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ لم نَفُز بتخریج عبارۃ المتن ولکن وجدنا الحدیث في ''المسند'' للإمام أحمد: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ في النار حیّات کأمثال أعناق البخت تلسع إحداہنّ اللسعۃ فیجد حموتہا أربعین خریفاً، وإنّ في النار عقارب کأمثال البغال الموکفۃ تلسع إحداہنّ اللسعۃ فیجد حموتہا أربعین سنۃ)).
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث:۱۷۷۲۹، ج۶، ص۲۱۷.
2۔۔۔۔۔۔ جلی ہوئی تہ۔
3۔۔۔۔۔۔ (وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَاءٍ کَالْمُہْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ)، پ۱۵، الکہف: ۲۹.
في روایۃ ''سنن الترمذي'' عن أبي سعید عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم في قولہ: (کَالْمُہْلِ)، قال: ((کعکر الزیت، فإذا قرّبہ إلی وجہہ سقطت فروۃُ وجہہ فیہ)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جہنم، باب ما جاء في صفۃ شراب أھل النار، الحدیث: ۲۵۹۰، ج۴، ص۲۶۱.
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۱۶۷۲، ج۴، ص۱۴۱.
4۔۔۔۔۔۔ (یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُ وْسِہِمُ الْحَمِیْمُ) پ ۱۷، الحج:۱۹.
في ''تفسیر الطبري''، ج۹، ص۱۲۵: عن أبي ہریرۃ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم، قال: ((إنّ الحمیم لیُصبّ علی رؤوسھم)). و''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم، باب ما جاء في صفۃ شراب، الحدیث:۲۵۹۱، ج۴، ص۲۶۲.
5۔۔۔۔۔۔ (وَیُسْقٰی مِنْ مَّاءٍ صَدِیْدٍ)، پ۱۳، ابراھیم : ۱۶.
في ''الدر المنثور''، ج۵، ص۱۵، تحت الآیۃ، عن قتادۃ رضي اللہ عنہ في قولہ: (وَیُسْقَی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ)، قال:(ماء یسیل من بین لحمہ وجلدہ).
6۔۔۔۔۔۔ ایک قسم کا خار دار زہریلا درخت جس میں سے دودھ نکلتا ہے۔ ''فرہنگ آصفیہ''، ج۱، ص۶۴۸۔
7 ۔۔۔۔۔۔ (اِنَّ شَجَرَۃَ الزَّقُّوْمِ طَعَامُ الْأَثِیْمِ)، پ۲۵، الدخان: ۴۳ ۔ ۴۴.
(وَطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ) پ۲۹، المزمل:۱۳. في ''تفسیر الطبري''، تحت ہذہ الآیۃ، عن مجاہد قولہ: (وَطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ)، قال: (شجرۃ الزقوم). ج۱۲، ص۲۸۹.