| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
دوسرے کے لیے مانع نہیں اور اﷲ عزوجل ہر ایک پر تجلّی فرمائے گا، ان میں سے کسی کو فرمائے گا: اے فلاں بن فلاں! تجھے یاد ہے، جس دن تُو نے ایسا ایسا کیا تھا...؟! دنیا کے بعض مَعاصی یاد دلائے گا، بندہ عرض کریگا: تو اے رب! کیا تُو نے مجھے بخش نہ دیا؟ فرمائے گا: ہاں! میری مغفرت کی وسعت ہی کی وجہ سے تُو اِس مرتبہ کو پہنچا، وہ سب اسی حالت میں ہونگے کہ اَبر چھائے گا اور اُن پر خوشبو برسائے گا، کہ اُس کی سی خوشبو ان لوگوں نے کبھی نہ پائی تھی اور اﷲ عزوجل فرمائے گا: کہ جاؤ اُس کی طرف جو میں نے تمہارے لیے عزت تیار کر رکھی ہے، جو چاہو لو، پھر لوگ ایک بازار میں جائیں گے جسے ملائکہ گھیرے ہوئے ہیں، اس میں وہ چیزیں ہوں گی کہ ان کی مثل نہ آنکھوں نے دیکھی، نہ کانوں نے سنی، نہ قلوب پر ان کا خطرہ گزرا، اس میں سے جو چاہیں گے، اُن کے ساتھ کر دی جائے گی اور خریدوفروخت نہ ہوگی اور جنتی اس بازار میں باہم ملیں گے، چھوٹے مرتبہ والا بڑے مرتبہ والے کو دیکھے گا، اس کا لباس پسند کریگا، ہنوز گفتگو ختم بھی نہ ہوگی کہ خیال کریگا، میرا لباس اُس سے اچھا ہے اور یہ اس وجہ سے کہ جنت میں کسی کے لیے غم نہیں، پھر وہاں سے اپنے اپنے مکانوں کو واپس آئیں گے۔ اُن کی بیبیاں استقبال کریں گی اور مبارکباد دے کر کہیں گی کہ آپ واپس ہوئے اور آپ کا جمال اس سے بہت زائد ہے کہ ھمارے پاس سے آپ گئے تھے، جواب دیں گے کہ پروردگار جبّار کے حضور بیٹھنا ہمیں نصیب ہوا تو ہمیں ایسا ہی ہوجانا سزاوار تھا۔ (1) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ أخبر ني رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنّ أھل الجنۃ إذا دخلوھا نزلوا فیھا بفضل أعمالھم، ثم یؤذن في مقدار یوم الجمعۃ من أیام الدنیا، فیزورون ربھم ویبرز لھم عرشہ ویتبدّی لھم في روضۃ من ریاض الجنۃ، فتوضع لھم منابر من نور، ومنابر من لؤلؤ ، ومنابر من یاقوت، ومنابر من زبرجد، ومنابر من ذھب، ومنابر من فضۃ، ویجلس أدناھم وما فیھم من دَنِيِّ علی کثبان المسک والکافور، وما یرون أنّ أصحاب الکراسيّ بأفضل منھم مجلساً)). قال أبو ھریرۃ: قلت: یا رسول اللہ! وھل نری ربنا؟ قال: ((نعم، ھل تتمارون في رؤیۃ الشمس والقمر لیلۃ البدر؟)) قلنا: لا، قال: ((کذلک لا تتمارون في رؤیۃ ربکم، ولا یبقی في ذلک المجلس رجل إلاّ حاضَرہُ اللہ محاضرۃً حتی یقول للرجل منھم: یا فلان بن فلان! أتذکر یوم قلت کذا وکذا فیذکرہ ببعض غدراتہ في الدنیا، فیقول: یا رب! أفلم تغفر لي؟ فیقول: بلی فبسعۃ مغفرتي بلغت منزلتک ھذہ، فبینا ھم علی ذلک غشیتھم سحابۃ من فوقھم فأمطرت علیھم طیبا لم یجدوا مثل ریحہ شیأاً قط، ویقول ربنا: قوموا إلی ما أعددتُ لکم من الکرامۃ فخذوا ما اشتھیتم، فنأتي سوقا قد حفّت بہ الملائکۃ ما لم تنظر العیون إلی مثلہ ولم تسمع الآذان، ولم یخطر علی القلوب، فیحمل إلینا ما اشتھینا لیس یباع فیھا ولا یشتری، وفي ذلک السوق یلقی أھل الجنۃ بعضھم بعضا. قال: فیقبل الرجل ذو المنزلۃ المرتفعۃ فیلقی من ھو دونہ وما فیھم دَنِيُّ فیروعہ ما یری علیہ من اللباس فما ینقضي آخر حدیثہ حتی یتخیل علیہ ما ھو أحسن منہ، وذلک أنّہ لا ینبغي لأحد أن یحزن فیھا، ثم ننصرف إلی منازلنا فتتلقانا أزواجُنا فیقلنَ مرحباً وأھلاً لقد جئت وإنّ لک من الجمال أفضل ممّا فارقتنا علیہ، فیقول: إنّا جالسنا الیوم ربنا الجبار، وبحقّ لنا أن ننقلب بمثل ما انقلبنا)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في سوق الجنۃ، الحدیث:۲۵۵۸، ج۴، ص۲۴۶.