Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
156 - 278
سامنے موجود ہو گا(1)، اگر کسی پرند کو دیکھ کر اس کے گوشت کھانے کو جی ہو تو اُسی وقت بُھنا ہوا اُن کے پاس آجائے گا(2)، اگر پانی وغیرہ کی خواہش ہو تو کوزے خود ہاتھ میں آجائیں گے، ان میں ٹھیک اندازے کے موافق پانی، دودھ، شراب، شہد ہوگا کہ ان کی خواہش سے ایک قطرہ کم نہ زیادہ، بعد پینے کے خودبخود جہاں سے آئے تھے چلے جائیں گے۔ (3) وہاں نجاست، گندگی، پاخانہ، پیشاب، تھوک، رینٹھ، کان کا میل، بدن کا میل اصلاً نہ ہوں گے، ایک خوشبو دار فرحت بخش ڈکار آئے گی، خوشبو دار فرحت بخش پسینہ نکلے گا، سب کھانا ہضم ہوجائے گا اور ڈکا ر اور پسینے سے مشک کی خوشبو نکلے گی۔(4) ہر شخص کو ۱۰۰سو آدمیوں کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    (وَسَقَاہُمْ رَبُّہُمْ شَرَابًا طَہُوْرًا) پ۲۹، الدہر:۲۱.

    (یَتَنَازَعُوْنَ فِیْہَا کَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْہَا وَلَا تَاْثِیْمٌ) پ۲۷، الطور:۲۳.

    (بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ وَکَاْسٍ مِّن مَّعِیْنٍ لَا یُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا وَلَا یُنْزِفُوْنَ) پ۲۷، الواقعۃ: ۱۸۔۱۹.

    (یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ بَیْضَاءَ لَذَّۃٍ لِّلشَّارِبِیْنَ لَا فِیْہَا غَوْلٌ وَّلَا ہُمْ عَنْہَا یُنْزَفُونَ) پ۲۳، الصفت: ۴۵۔۴۷. 

1۔۔۔۔۔۔ (وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ اَنْفُسُکُمْ) [پ۲، فصلت: ۳۱]، وفي ''تفسیر ابن کثیر''،ج۷، ص۱۶۲، تحت ہذہ الآیۃ: ((وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ اَنْفُسُکُمْ) أي في الجنۃ من جمیع ما تختارون مما تشتہیہ النفوس، وتقرّ بہ العیون، (وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ) أي: مھما طلبتم وجدتم، وحضر بین أیدیکم کما اخترتم).

2۔۔۔۔۔۔ (وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ) پ۲۸، الواقعہ: ۲۱. عن أبي أمامۃ رضي اللہ عنہ قال: ((إنّ الرجل لیشتھي الطیر في الجنۃ من طیور الجنۃ، فیقع في یدہ مقلیا نضیجا)). ''الدر المنثور''، ج۸، ص۱۱. 

     وفي روایۃ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّک لتنظر إلی الطیر في الجنۃ فتشتہیہ فیجيء مشویّا بین یدیک)). ''الترغیب وا لترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في أکل أھل الجنۃ وشربھم وغیر ذلک ، الحدیث: ۷۳، ج۴، ص ۲۹۲. 

3۔۔۔۔۔۔ عن أبي أمامۃ رضي اللہ عنہ قال: ((إنّ الرجل من أھل الجنۃ لیشتھي الشراب من شراب الجنۃ، فیجيء الإبریق، فیقع في یدہ فیشرب، ثم یعود إلی مکانہ)). ''الترغیب وا لترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في أکل أھل الجنۃ وشربھم وغیر ذلک، الحدیث: ۶۶، ج۴، ص۲۹۰.

4۔۔۔۔۔۔ عن جابر قال: سمعت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ أھل الجنۃ یأکلون فیھا ویشربون، ولا یتفلون ولا یبولون، ولا یتغوّطون و لا یمتخطون، قالوا: فما بال الطعام؟ قال: جشاء ورشح کرشح المسک)). ''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأھلہا، باب في صفۃ الجنۃ ... إلخ، الحدیث: ۲۸۳۵، ص۱۵۲۰. 

    وفي روایۃ ''المسند'': الحدیث: ۱۹۲۸۹، ج۷، ص ۷۶: فإنّ الذي یأکل ویشرب تکون لہ الحاجۃ، قال: فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((حاجۃ أحدہم عرق یفیض من جلودہم مثل ریح المسک فإذا البطن قد ضمر)).
Flag Counter