| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
اور مشک کا گارا ہے اورگھاس کی جگہ زعفران ہے، موتی کی کنکریاں، عنبر کی مٹی(1)، جنت میں ایک ایک موتی کا خیمہ ہوگا جس کی بلندی ساٹھ میل۔(2) جنت میں چار دریا ہیں، ایک پانی کا، دوسرا دودھ کا، تیسرا شہد کا، چوتھا شراب کا، پھر اِن سے نہریں نکل کر ہر ایک کے مکان میں جاری ہیں۔(3) وہاں کی نہریں زمین کھود کر نہیں بہتیں، بلکہ زمین کے اوپر اوپر رواں ہیں، نہروں کا ایک کنارہ موتی کا، دوسرا یاقوت کا اور نہروں کی زمین خالص مشک کی(4)، وہاں کی شراب دنیا کی سی نہیں جس میں بدبُو اور کڑواہٹ اور نشہ ہوتا ہے اور پینے والے بے عقل ہو جاتے ہیں، آپے سے باہر ہو کر بیہودہ بکتے ہیں، وہ پاک شراب اِن سب باتوں سے پاک و منزَّہ ہے۔(5) جنتیوں کو جنت میں ہر قسم کے لذیذ سے لذیذ کھانے ملیں گے، جو چاہیں گے فوراً ان کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((خلق اللہ جنۃ عدن بیدہ، لبنۃ من درّۃ بیضائ، ولبنۃ من یاقوتۃ حمرائ، ولبنۃ من زبرجدۃ خضرائ، وملاطھا مسک، حشیشھا الزعفران، حصباؤھا اللؤلؤ، ترابھا العنبر)). ''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، الترغیب في الجنۃ ونعیمھا، فصل في بناء الجنۃ وترابھا وحصبائھا وغیر ذلک، الحدیث: ۳۳، ج۴، ص۲۸۳.
2۔۔۔۔۔۔ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ للمؤمن في الجنۃ لخیمۃ من لؤلؤۃ واحدۃ مجوفۃ، طولھا ستون میلاً)).
''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب في صفۃ خیام الجنۃ... إلخ، الحدیث: ۲۸۳۸، ص۱۵۲۲.
3۔۔۔۔۔۔ (فِیْہَا اَنْہَارٌ مِّن مَّاءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ وَاَنْہَارٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہ، وَاَنْہَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشَّارِبِیْنَ وَاَنْہَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی) پ۲۶، محمد: ۱۵.
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((في الجنۃ بحر اللبن وبحر الماء وبحر العسل وبحر الخمر، ثم تشقق الأنھار منھا بعدہ)) ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۰۰۷۲، ج۷ ،ص۲۴۲.
وفي روایۃ ''الترمذي'': قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ في الجنۃ بحر المائ، وبحر العسل، وبحر اللبن، وبحر الخمر، ثم تشقق الأنہار بعد)).کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ أنہارالجنۃ، الحدیث: ۲۵۸۰،ج۴، ص۲۵۷.
في ''المرقاۃ''، ج۹، ص۶۱۶، تحت الحدیث: (وقولہ: ثم تشقق أي: تفترق الأنہار إلی الجداول بعد تحقق الأنہار إلی بساتین الأبرار، وتحت قصور الأخیار).
4۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لعلکم تظنون أنّ أنھار الجنۃ أخدود في الأرض، لا، واللہ إنّہا لسائحۃ علی وجہ الأرض، إحدی حافتیہا اللؤلؤ، والأخری الیاقوت، وطینہ المسک الأذفر، قال: قلت: ما الأذفر؟ قال: الذي لا خلط لہ)). ''الترغیب وا لترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في أنہار الجنۃ، الحدیث: ۴۸، ج۴، ص۲۸۶.
''حلیۃ الأولیاء''، الحدیث: ۸۳۷۲، ج۶، ص۲۲۲، بألفاظ متقاربۃ.
5۔۔۔۔۔۔ (وَاَنْہَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشَّارِبِیْنَ) پ۲۶، محمد: ۱۵۔ في ''تفسیر ابن کثیر'' ج۷، ص۲۸۹، تحت ہذہ الآیۃ: (أي: لیست کریہۃ الطعم والرائحۃ کخمر الدنیا، حسنۃ المنظر والطعم والرائحۃ والفعل)۔ =