| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
کھانے، پینے، جماع کی طاقت دی جائے گی۔(1) ہر وقت زبان سے تسبیح و تکبیر بہ قصد اور بلا قصد مثل سانس کے جاری ہوگی۔(2) کم سے کم ہر شخص کے سرہانے د۱۰س ہزار خادم کھڑے ہونگے، خادموں میں ہر ایک کے ایک ہاتھ میں چاندی کا پیالہ ہوگا اور دوسرے ہاتھ میں سونے کا اور ہر پیالے میں نئے نئے رنگ کی نعمت ہو گی(3)، جتنا کھاتا جائے گا لذت میں کمی نہ ہوگی بلکہ زیادتی ہوگی ، ہر نوالے میں ۷۰ ستّرمزے ہوں گے، ہر مزہ دوسرے سے ممتاز، وہ معاً محسوس ہوں گے، ایک کا احساس دوسرے سے مانع(4) نہ ہوگا، جنتیوں کے نہ لباس پرانے پڑیں گے، نہ ان کی جوانی فنا ہوگی۔(5)
پھلا گروہ جو جنت میں جائے گا، اُن کے چہرے ایسے روشن ہوں گے جیسے چودہویں رات کا چاند اور دوسرا گروہ جیسے کوئی نہایت روشن ستارہ، جنتی سب ایک دل ہوں گے، ان کے آپس میں کوئی اختلاف و بغض نہ ہوگا، ان میں ہر ایک کو حورِ عِین میں کم سے کم دو بیبیاں ایسی ملیں گی کہ ستّر ستّر جوڑے پہنے ہوں گی، پھر بھی ان لباسوں اور گوشت کے باہر سے ان کی پنڈلیوں کا مغزــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((والذي نفسي بیدہ إنّ أحدہم لیُعطی قوۃ مائۃ رجل في المطعم والمشرب والشہوۃ والجماع)). ''المسند للامام احمد بن حنبل''، الحدیث: ۱۹۲۸۹۔۱۹۳۳۳، ج۷، ص۷۶ و۸۴.
2۔۔۔۔۔۔ ((یلھمون التسبیح والتکبیر، کما یلھمون النفس)). ''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب في صفات الجنۃ... إلخ، الحدیث: ۲۸۳۵، ص۱۵۲۱.
وفي ''فتح الباري''، ج۷، ص۲۶۷، تحت قول: (یُسَبِّحُوْنَ اللہَ بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا): (عند مسلم بقولہ: ''یلہمون التسبیح والتکبیرکما یلہمون النفس'' ووجہ التشبیہ أنّ تنفس الإنسان لا کلفۃ علیہ فیہ ولا بد لہ منہ، فجعل تنفسہم تسبیحا، وسببہ أنّ قلوبہم تنوّرت بمعرفۃ الرب سبحانہ وامتلأت بحبہ، ومن أحب شیأا أکثر من ذکرہ).
3۔۔۔۔۔۔ عن أنس بن مالک رضي اللہ عنہ یرفعہ قال: ((إنّ أسفل أھل الجنۃ أجمعین من یقوم علی رأسہ عشرۃ آلاف خادم، مع کل خادم صحفتان، واحدۃ من فضۃ وواحدۃ من ذہب، في کل صحفۃ لون لیس في الأخری مثلہا، یأکل من آخرہ کما یأکل من أوّلہ، یجد لآخرہ من اللذّۃ والطعم ما لا یجد لأوّلہ)).
''الترغیب وا لترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في أکل أھل الجنۃ وشربھم وغیر ذلک، الحدیث: ۷۰، ج۴، ص۲۹۱.
و''حلیۃ الأولیاء''، الحدیث: ۸۲۴۶، ج۶، ص ۱۸۸.
4۔۔۔۔۔۔ روکنے والا۔
5۔۔۔۔۔۔ عن أبي ھریرۃ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((من یدخل الجنۃ ینعم لا یبأس، لا تبلی ثیابہ ولا یفنی شبابہ)).
''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب في دوام نعیم أھل... إلخ، الحدیث: ۲۸۳۶، ص۱۵۲۱.