| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں ۱۰۰سو برس تک تیز گھوڑے پر سوار چلتا رہے اورختم نہ ہو۔(1) جنت کے دروازے اتنے وسیع ہوں گے کہ ایک بازو سے دوسرے تک تیز گھوڑے کی ستّر برس کی راہ ہوگی(2) پھر بھی جانے والوں کی وہ کثرت ہوگی کہ مونڈھے سے مونڈھا چِھلتا ہوگا(3)، بلکہ بھیڑ کی وجہ سے دروازہ چَرچَرانے لگے گا۔(4) اس میں قسم قسم کے جواہر کے محل ہیں، ایسے صاف و شفاف کہ اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا اندر سے دکھائی دے۔(5) جنت کی دیواریں سونے اور چاندی کی اینٹوں اور مُشک کے گارے سے بنی ہیں(6)، ایک اینٹ سونے کی، ایک چاندی کی، زمین زعفران کی، کنکریوں کی جگہ موتی اور یاقوت۔ (7) اور ایک روایت میں ہے کہ جنتِ عدن کی ایک اینٹ سفید موتی کی ہے، ایک یاقوتِ سرخ کی، ایک زَبَرْجَد سبز کی،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ في الجنۃ لشجرۃ یسیر الراکب في ظلہا مائۃ عام، لا یقطعھا)).
وفي روایۃ: عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ في الجنۃ شجرۃ یسیر الراکب الجواد المضمّر السریع مائۃ عام، ما یقطعھا)). ''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ، باب إنّ في الجنۃ شجرۃ... إلخ، الحدیث:۲۸۲۷۔۲۸۲۸، ص۱۵۱۷.
2۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ للجنۃ لثمانیۃ أبواب ما منھما بابان إلاّ یسیر الراکب بینھما سبعین عامًا)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أبي رزین العقیلي، الحدیث: ۱۶۲۰۶، ج۵، ص۴۷۵.
وفي روایۃ: عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((ما بین کل مصراعین من مصاریع الجنۃ مسیرۃ سبعین عامًا)). ''حلیۃ الأولیاء''، الحدیث: ۸۳۷۱، ج۶، ص۲۲۱.
3۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((باب أمتي الذي یدخلون منہ الجنۃ عرضہ مسیرۃ الراکب المجود ثلاثا، ثم إنّھم لیضغطون علیہ حتی تکاد مناکبھم تزول)).''سنن الترمذي''، أبواب صفۃ الجنۃ... إلخ، باب ما جاء في صفۃ أبواب الجنۃ، الحدیث: ۲۵۵۷، ج۴، ص ۲۴۶.
4۔۔۔۔۔۔ ((ولیأتین علیہا یوم وہو کظیظ من الزحام)). ''صحیح مسلم''، کتاب الزہد، الحدیث: ۲۹۶۷، ص۱۵۸۶.
5۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ في الجنۃ غرفا من أصناف الجوھر کلہ یری ظاھرھا من باطنھا وباطنھا من ظاھرھا)). ''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في درجات الجنۃ وغرفھا، الحدیث: ۲۷، ج۴، ص۲۸۱.
6۔۔۔۔۔۔ ((حائط الجنۃ لبنۃ من ذہب ولبنۃ من فضۃ وملاطہا المسک)). ''مجمع الزوائد''، کتاب أھل الجنۃ، باب في بناء الجنۃ وصفتہا، الحدیث: ۱۸۶۴۲،ج۱۰، ص۷۳۲.
7۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لبنۃ من ذھب، ولبنۃ من فضۃ، ملاطھا المسک الأذفر، وحصباؤھا الیاقوت واللؤلؤ، وترابھا الزعفران)). ''سنن الدارمي''، کتاب الرقائق، باب في بناء الجنۃ، الحدیث:۲۸۲۱، ج۲، ص۴۲۹.
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ماجاء في صفۃ الجنۃ ونعیمہا، الحدیث: ۲۵۳۴، ج۴، ص۲۳۶.