Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
153 - 278
آفتاب کی روشنی مٹادے، جیسے آفتاب ستاروں کی روشنی مٹا دیتا ہے۔ (1) جنت کی اتنی جگہ جس میں کوڑا (2) رکھ سکیں دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ (3) 

    جنت کتنی وسیع ہے، اس کو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہی جانیں، اِجمالی بیان یہ ہے کہ اس میں ۱۰۰سو درجے ہیں۔ ہر دو درجوں میں وہ مسافت ہے، جو آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ (4) رہا یہ کہ خود اُس درجہ کی کیا مسافت ہے، اس کے متعلق کوئی روایت خیال میں نہیں، البتہ ایک حدیث ''ترمذی'' کی یہ ہے: ''کہ اگر تمام عالم ایک درجہ میں جمع ہو تو سب کے لیے وسیع ہے۔ ''(5)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ((لو أنّ ما یُقلُّ ظفر مما في الجنۃ بدا لَتزخرفت لہ ما بین خوافق السموات والأرض، ولو أنّ رجلاً من أھل الجنۃ اطلع فبدا أساورہ لطمس ضوء الشمس کما تطمس الشمس ضوء النجوم)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ أھل الجنۃ، الحدیث: ۲۵۴۷، ج۴، ص۲۴۱.

2۔۔۔۔۔۔ چابک ، درّہ۔ 

3۔۔۔۔۔۔ ((موضع سوط في الجنۃ خیر من الدنیا وما فیھا)). ''جنت میں ایک کوڑے (یعنی ایک چابک) جتنی جگہ دُنیا اور جو کچھ اس میں ہے ان سے بہتر ہے''۔( ''صحیح البخاري''، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ وأنّہا مخلوقۃ، الحدیث: ۳۲۵۰، ج۲، ص۳۹۲).

    شیخ محقق شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِھلوی علیہ ر حمۃاللہ القوی ارشادفر ما تے ہیں: ''یعنی جنت کی تھوڑی سی اور معمولی جگہ د نیا اور اس کی ہرچیز سے بہتر ہے ۔چابک کا ذکر اس عادت کے مطابق ہے کہ سوار جب کسی جگہ اترنا چاہتا ہے تو اپنا چابک پھینک دیتا ہے تاکہ اس کی نشانی رہے اور دوسرا کوئی شخص وہاں نہ اُترے۔                         (''أشعۃ اللمعات''، ج۷، ص۵۰)۔

    مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فر ما تے ہیں: کوڑے سے مراد ہے وہاں کی تھوڑی سی جگہ۔ واقعی جنت کی نعمتیں دائمی ہیں۔دنیا کی فانی پھر دنیا کی نعمتیں تکالیف سے مخلوط وہاں کی نعمتیں خالص ،پھر دنیا کی نعمتیں ادنیٰ وہ اعلیٰ اس لیے دنیا کو وہاں کی ادنیٰ جگہ سے کوئی نسبت ہی نہیں۔                     (''مراۃ المناجیح''، ج۷ ، ص۴۴۷)۔

    وانظر ''المرقاۃ''، کتاب الفتن، باب صفۃ الجنۃ وأھلہا، الحدیث: ۵۶۱۳، ج ۹، ص ۵۷۸۔

4۔۔۔۔۔۔ أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((في الجنۃ مائۃ د رجۃ ما بین کل درجتین کما بین السماء والأرض)).

    ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ درجات الجنۃ، الحدیث: ۲۵۳۹، ج۴، ص۲۳۸.

5۔۔۔۔۔۔ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ في الجنۃ مائۃ درجۃ لو أنّ العالمین اجتمعوا في إحداھنّ لوسعتھم)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ درجات الجنۃ، الحدیث: ۲۵۴۰، ج۴، ص۲۳۹.
Flag Counter