| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
جنت ایک مکان ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے بنایا ہے، اس میں وہ نعمتیں مہیا کی ہیں جن کو نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا، نہ کسی ۱ ؎ آدمی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا۔ (1) جو کوئی مثال اس کی تعریف میں دی جائے سمجھانے کے لیے ہے، ورنہ دنیا کی اعلیٰ ۲ ؎ سے اعلیٰ شے کو جنت کی کسی چیز کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں۔ وہاں کی کوئی عورت اگر زمین کی طرف جھانکے تو زمین سے آسمان تک روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے اور چاند سورج کی روشنی جاتی رہے اور اُس کا دوپٹا دنیا ومافیہا سے بہتر۔ (2) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اگر حُور اپنی ہتھیلی زمین و آسمان کے درمیان نکالے تو اس کے حسن کی وجہ سے خلائق فتنہ میں پڑ جائیں اور اگر اپنا دوپٹا ظاہر کرے تو اسکی خوبصورتی کے آگے آفتاب ایسا ہو جائے جیسے آفتاب کے سامنے چراغ (3) اور اگر جنت کی کوئی ناخن بھَر چیز دنیا میں ظاہر ہو تو تمام آسمان و زمین اُس سے آراستہ ہو جائیں اور اگرجنتی کا کنگن ظاہر ہو تو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ ؎ یعنی بے دیکھے ورنہ دیکھ کر توآپ ہی جانیں گے تو جنہوں نے حالتِحیات دنیوی ہی میں مشاہدہ فرمایا وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں یعنی سرے سے یہ حکم انہیں شامل ہی نہیں، علی الخصوص صاحب ِ معراج صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ۔ ۱۲ منہ
1۔۔۔۔۔۔ عن أبي ھریرۃ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((قال اللہ [عزوجل]: أعددتُ لعبادي الصالحین ما لا عین رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر علی قلب بشر)). ''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، الحدیث:۲۸۲۴، ص۱۵۱۶.
۲؎ کعبہ معظمہ، جنت سے اعلیٰ ہے اور تربتِ اطہرِ حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تو کعبہ بلکہ عرش سے بھی افضل ہے، مگر یہ دُنیا کی چیزیں نہیں ۔ ۱۲ منہ
2۔۔۔۔۔۔ ((ولو أنّ امراۃ من نساء أھل الجنۃ اطّلعت إلی الأرض لأضاء ت ما بینھما، ولملأ ت ما بینھما ریحاً، ولنصیفھا ۔یعني الخمار۔ خیر من الدنیا وما فیھا)). ''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار، الحدیث: ۶۵۶۸، ج۴، ص۲۶۴.
وفي روایۃ ''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۵۵۱۲، ج۶، ص۵۹: ((لو أنّ امرأۃ من أھل الجنۃ أشرفت إلی أھل الأرض لملأت الأرض ریح مسک، ولأذھبت ضوء الشمس والقمر)).
3۔۔۔۔۔۔ ((لو أنّ حوراء أخرجت کفھا بین السماء والأرض لافتتن الخلائق بحسنھا، ولو أخرجت نصیفھا لکانت الشمس عند حسنہ مثل الفتیلۃ في الشمس، لاضوء لھا)).''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في وصف نساء أھل الجنۃ، الحدیث:۹۷، ج۴، ص۲۹۸.