Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
151 - 278
    عقیدہ (۱۴): جنت ودوزخ کو بنے ہوئے ہزارہا سال ہوئے اور وہ اب موجود ہیں، یہ نہیں کہ اس وقت تک مخلوق نہ ہوئیں، قیامت کے دن بنائی جائیں گی۔ (1) 

    عقیدہ (۱۵): قیامت و بعث و حشر و حساب و ثواب و عذاب و جنت و دوزخ سب کے وہی معنی ہیں جو مسلمانوں میں مشہور ہیں، جو شخص ان چیزوں کو تو حق کہے، مگر ان کے نئے معنی گھڑے (مثلاً ثواب کے معنی اپنے حسنات کو دیکھ کر خوش ہونا اور عذاب اپنے بُرے اعمال کو دیکھ کر غمگین ہونا، یا حشر فقط روحوں کا ہونا)، وہ حقیقۃً ان چیزوں کا منکر ہے اور ایسا شخص کافر ہے۔(2) اب جنت و دوزخ کی مختصر کیفیت بیان کی جاتی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـ1۔۔۔۔۔۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۰۵۔۱۰۶: ( والجنۃ حق والنارحق، وھما أي الجنۃ والنار مخلوقتان ألان موجودتان، تکریر وتأکید وزعم أکثر المعتزلۃ أنّھما أنما تخلقان یوم الجزائ، ولنا قصۃ اٰدم وحواء وإسکانھما الجنۃ والاٰیات الظاھرۃ في إعدادھما مثل (اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ) و(اُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ)).

وفي ''منح الروض الأزہر''، ص۹۸: (''والجنۃ والنار مخلوقتان الیوم'' أي: موجودتان الآن قبل یوم القیامۃ، لقولہ تعالی في نعت الجنۃ: (اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ) وفي وصف النار: (اُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ) وللحدیث القدسي: ((أعددت لعبادي الصالحین ما لا عین رأت ولا أذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر))، ولحدیث الإسرائ: ((أدخلت الجنۃ وأریت النار))، وہذہ الصیغۃ موضوعۃ للمضي حقیقۃ، فلا وجہ للعدول عنہا إلی المجاز إلاّ بصریح آیۃ أو صحیح دلالۃ، وفي المسألۃ خلاف للمعتزلۃ).

2۔۔۔۔۔۔ وفي الشفا''،ج۲، ص۲۹۰: (وکذلک من أنکر الجنۃ أو النار أو البعث أو الحساب أو القیامۃ فھو کافر بإجماع للنص علیہ، وإجماع الأمۃ علی صحۃ نقلہ متواتراً، وکذلک من اعترف بذلک، ولکنّہ قال: إنّ المراد بالجنۃ والنار والحشر والنشر والثواب والعقاب معنیً غیر ظاہرہ، وأنّہا لذّات روحانیۃ ومعان باطنۃ کقول النصاری والفلاسفۃ والباطنیۃ وبعض المتصوفۃ، وزعم أنّ معنی القیامۃ الموت أو فناہ محض، وانتقاض ہیئۃ الأفلاک وتحلیل العالم کقول بعض الفلاسفۃ). 

''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۲۹، ص۳۸۳۔۳۸۴.
Flag Counter