| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
جسے ایک بار دیدار میسّر ہوگا، ہمیشہ ہمیشہ اس کے ذوق میں مستغرق(1) رہے گا، کبھی نہ بھولے گا اور سب سے پہلے دیدارِ الٰہی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ہوگا۔ (2)
یہاں تک تو حشرکے اہوال و احوال مختصراً بیان کیے گئے، ان تمام مرحلوں کے بعد اب اسے ہمیشگی کے گھر میں جانا ہے، کسی کو آرام کا گھر ملے گا، جس کی آسائش کی کوئی انتہا نہیں، اس کو جنت کہتے ہیں۔یا تکلیف کے گھر میں جانا پڑے جس کی تکلیف کی کوئی حد نہیں، اسے جہنم کہتے ہیں۔
عقیدہ (۱۳): جنت ودوزخ حق ہیں(3)، ان کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ (4)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔مشغول۔
2۔۔۔۔۔۔ (من خصائصہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔أنّہ أوّل شافع وأوّل مشفع وأوّل من ینظر إلی اللہ). ''حجۃ اللہ علی العالمین''، ذکر الخصائص الذي فضل بہا علی جمیع الأنبیائ، ص۵۳.
في روایۃ ''سبل الہدی والرشاد'' ، ج۱۰، ص۳۸۴: (الباب الثالث فیما اختص بہ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم عن الأنبیاء في ذاتہ في الآخرۃ صلی اللہ علیہ وسلم، وفیہ مسائل: الأولی: اختص صلی اللہ علیہ وسلم بأنّہ أول من تنشق عنہ الأرض، الثانیۃ: وبأنّہ أوّل من یفیق من الصعقۃ،۔۔۔۔۔۔ الرابعۃ عشرۃ: وبأنّہ أوّل من یؤذن لہ في السجود، الخامسۃ عشرۃ: وبأنّہ أوّل من یرفع رأسہ، السادسۃ عشرۃ: وأوّل من ینظر إلی اللہ تبارک وتعالی... إلخ).
3۔۔۔۔۔۔ (وَسَارِعُوْا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ) پ۴، اٰل عمران: ۱۳۳.
في تفسیر الخازن''، ج۱، ص ۳۰۱، تحت الآیۃ:((اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ) أي: ہیئت للمتقین، وفیہ دلیل علی أنّ الجنۃ والنار مخلوقتان الآن) .(فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ اُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ) پ۱، البقرۃ:۲۴.
في ''تفسیر ابن کثیر''، ج ۱، ص ۱۱۱، تحت الآیۃ: (قد استدل کثیر من أئمۃ السنۃ بہذہ الآیۃ علی أنّ النار موجودۃ الآن لقولہ: (اُعِدَّتْ) أي: أرصدت وہیئت).
وفي''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۰۵: ( والجنۃ حق والنارحق).
4۔۔۔۔۔۔ في ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۳۰۳: (من أنکر القیامۃ أو الجنۃ أو النار۔۔۔۔۔۔ فإنّہ یکفر لإنکارہ ما ہو الثابت بالنصوص القرآنیۃ والأحادیث الصحیحۃ النبویۃ وأجمعت علیہ الأمۃ المرضیۃ).
وفي ''الشفا''،ج۲، ص۲۹۰: (وکذلک من أنکر الجنۃ أوالنار۔۔۔۔۔۔ فھوکافر بإجماع للنص علیہ، وإجماع الأمۃ علی صحۃ نقلہ متواترا).