Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
149 - 278
    غرض ہر جگہ اُنھیں کی دُوہائی، ہر شخص اُنھیں کو پکارتا، اُنھیں سے فریا دکرتا ہے اور اُن کے سوا کس کوپکارے...؟! کہ ہر ایک تو اپنی فکر میں ہے، دوسروں کو کیا پوچھے، صرف ایک یہی ہیں، جنہیں اپنی کچھ فکر نہیں اور تمام عالم کا بار اِن کے ذمّے۔
    ''صَلّی اللہ تعالی علیہ وَعلٰی آلِہٖ وأَصْحَابِہٖ وَبارَکَ وَسَلَّمَ اَللّٰھُمَّ نَجِّنَا مِنْ أَھْوَالِ الْمَحْشَرِ بِجَاہِ ھٰذَا النَّبِيِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَأَصْحَابِہٖ أَفْضَلُ الصَّلاَۃِ وَالتَّسْلِیْمِ، اٰمِیْنَ !
    یہ قیامت کا دن کہ حقیقۃً قیامت کا دن ہے، جو پچاس ہزار برس کا دن ہوگا (1)، جس کے مصائب بے شمار ہوں گے، مولیٰ عزوجل کے جو خاص بندے ہیں ان کے لیے اتنا ھلکا کر دیا جائے گا، کہ معلوم ہوگا اس میں اتنا وقت صَرف ہوا جتنا ایک وقت کی نمازِ فرض میں صَرف ہوتا ہے (2)، بلکہ اس سے بھی کم (3)، یہاں تک کہ بعضوں کے لیے تو پلک جھپکنے میں سارا دن طے ہو جائے گا۔
 (وَمَآ اَمْرُ السَّاعَۃِ اِلَّا کَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ ھُوَ اَقْرَبُ )(4)
''قیامت کا معاملہ نہیں مگر جیسے پلک جھپکنا، بلکہ اس سے بھی کم۔'' 

    سب سے اعظم و اعلیٰ جو مسلمانوں کو اس روز نعمت ملے گی وہ اﷲ عزوجل کا دیدار ہے، کہ اس نعمت کے برابر کوئی نعمت نہیں،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ (ِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ)(پ۲۹، المعارج : ۴) انظر ص۴۹، تخریج نمبر ۴.

2۔۔۔۔۔۔ عن أبي ھریرۃ أظنہ رفعہ إلی النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال:((إنّ اللہ یخفف علی من یشاء من عبادہ طول یوم القیامۃ کوقت صلاۃ مکتوبۃ))۔ ''شعب الإیمان''، باب في حشر الناس بعد ما یبعثون من قبورہم، الحدیث: ۳۶۲، ج۱، ص۳۲۵.

     عن أبي سعید الخدري، أنّہ أتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: أخبرني من یقوی علی القیام یوم القیامۃ الذي قال اللہ عزوجل: (یَوْمَ یَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ )، فقال: ((یخفف علی المؤمن حتی یکون علیہ کالصلاۃ المکتوبۃ)).

''مشکاۃ المصابیح''،کتاب أحوال القیامۃ وبدء الخلق،ج۲، الحدیث:۵۵۶۳، ص۳۱۷.

3۔۔۔۔۔۔ عن أبي سعید الخدري قال: قیل لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوما کان مقدارہ خمسین ألف سنۃ ما أطول ھذاالیوم؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((والذی نفسي بیدہ أنّہ لیخفف علی المؤمن، حتی یکون أخفّ علیہ من صلاۃ مکتوبۃ، یصلیھا في الدنیا)).''المسند'' لللإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۱۷۱۷، ج۴، ص۱۵۱.''شعب الإیمان''، باب في حشر الناس بعد ما یبعثون من قبورہم، الحدیث:۳۶۱، ج۱، ص۳۲۴.

4۔۔۔۔۔۔ پ۱۴، النحل: ۷۷.
Flag Counter