| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
اور بعض جیسے گھوڑا دوڑتا ہے اور بعض جیسے آدمی دوڑتا ہے، یہاں تک کہ بعض شخص سُرین پر گھسٹتے ہوئے اور کوئی چیونٹی کی چال جائے گا(1) اور پُل صراط کے دونوں جانب بڑے بڑے آنکڑے (اﷲ (عزوجل) ہی جانے کہ وہ کتنے بڑے ہونگے) لٹکتے ہوں گے، جس شخص کے بارے میں حکم ہوگا اُسے پکڑلیں گے، مگر بعض تو زخمی ہو کرنجات پا جائیں گے اور بعض کو جہنم میں گرا دیں گے (2) اور یہ ھلاک ہوا۔
یہ تمام اھلِ محشر تو پُل پر سے گزرنے میں مشغول، مگر وہ بے گناہ، گناہگاروں کا شفیع پُل کے کنارے کھڑا ہوا بکمالِ گریہ وزاری اپنی اُمّتِ عاصی کی نجات کی فکر میں اپنے رب سے دُعا کر رہا ہے: ((رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ))(3)، اِلٰہی! ان گناہگاروں کو بچالے بچالے۔ اور ایک اسی جگہ کیا! حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اُس دن تمام مواطن میں دورہ فرماتے رہیں گے، کبھی میزان پر تشریف لے جائیں گے، وہاں جس کے حسنات میں کمی دیکھیں گے، اس کی شفاعت فرما کر نجات دلوائیں گے اور فوراً ہی دیکھو تو حوضِ کوثر پر جلوہ فرما ہیں ، پیاسوں کو سیراب فرمارہے ہیں اور وہاں سے پُل پر رونق افروز ہوئے اور گِرتوں کو بچایا۔ (4)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ قیل: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وما الجِسر؟ قال: ((دحض مزلۃ، فیہا خطاطیف وکلالیب وحسک، تکون بنجد فیہا شویکۃ یقال لہا السعدان، فیمر المؤمنون کطرف العین وکالبرق، وکالریح وکالطیر وکأجاوید الخیل والرکاب)). ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب معرفۃ طریق الرؤیۃ ، الحدیث: ۳۰۲، ص۱۱۴.
وفي روایۃ: عن أبي سعید الخدري، قال: ((یعرض الناس علی جسر جہنم، علیہ حسک وکلالیب وخطاطیف تخطف الناس، قال: فیمر الناس مثل البرق، وآخرون مثل الریح، وآخرون مثل الفرس المجد، وآخرون یسعون سعیًا، وآخرون یمشون مشیًا وآخرون یحبون حبوًا وآخرون یزحفون زحفا)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۱۲۰۰، ج۴، ص۵۱.
2۔۔۔۔۔۔ ((وفي حافتي الصراط کلالیب معلقۃ، مأمورۃ بأخذ مَن أمرت بہ، فمخدوش ناج ومکد وس في النار)).
''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب أدنی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا، الحدیث: ۳۲۹، ص۱۲۷.
3۔۔۔۔۔۔ ((ونبیکم قائم علی الصراط یقول: رب سلم سلم)). ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب أدنی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا، الحدیث: ۳۲۹، ص۱۲۷.
4۔۔۔۔۔۔ حدثناالنضر ابن أنس بن مالک عن أبیہ قال: سألت النبي صلی اللہ علیہ وسلم أن یشفع لي یوم القیامۃ، فقال: ((أنا فاعل))، قلت: یارسول اللہ! فأین أطلبک؟ قال: ((اطلبني أوّل ما تطلبني علی الصراط))، قلت: فإن لم ألقک علی الصراط، قال: ((فاطلبني عند المیزان))، قلت: فإن لم ألقک عند المیزان؟ قال: ((فاطلبني عند الحوض، فإني لا أخطی ء ھذ ہ الثلاث المواطن)).
''سنن الترمذي''، أبواب صفۃ القیامۃ والرقائق... إلخ، باب ما جاء في شأن الصراط، الحدیث: ۲۴۴۸، ج۴، ص۱۹۵.
و''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۲۸۲۵، ج۴، ص۳۵۶.