| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
عقیدہ (۱۱): حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ایک جھنڈا مرحمت ہو گا جس کو لواء الحمد کہتے ہیں، تمام مومنین حضرت آدم علیہ السلام سے آخر تک سب اُسی کے نیچے ہوں گے۔ (1)
عقیدہ (۱۲): صراط حق ہے ۔یہ ایک پُل ہے کہ پشتِ جہنم پر نصب کیا جائے گا، بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا (2)، جنت میں جانے کا یہی راستہ ہے، سب سے پہلے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم گزر فرمائیں گے، پھر اور انبیا و مرسلین، پھر یہ اُمّت پھر اور اُمتیں گزریں گی(3) اور حسبِ اختلافِ اعمال پُلِ صراط پر لوگ مختلف طرح سے گزریں گے، بعض تو ایسے تیزی کے ساتھ گزریں گے جیسے بجلی کا کوندا کہ ابھی چمکا اور ابھی غائب ہوگیا اور بعض تیز ہواکی طرح، کوئی ایسے جیسے پرند اڑتا ہےــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ عن أبي سعید قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنا سید ولد آدم یوم القیامۃ ولا فخر، وبیدي لواء الحمد ولا فخر، ومامن نبيّ یومئذ ۔آدم فمن سواہ۔ إلاّ تحت لوا ئي)). ''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، باب سلوا اللہ لي الوسیلۃ، الحدیث: ۳۶۲۵، ج۵، ص۳۵۴.
2۔۔۔۔۔۔ عن عائشۃ قالت: قال رسول اللہ: ((ولجہنم جِسر أدقّ من الشعر وأحدّ من السیف)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۴۸۴۷، ج۹، ص۴۱۵.
وفي روایۃ: قال أبو سعید الخدري: ((بلغني أنّ الجسر أدقّ من الشعرۃ وأحدّ من السیف)). ''صحیح مسلم''، کتا ب الإیمان، باب معرفۃ طریق الرؤیۃ، الحدیث: ۳۰۲، ص۱۱۵.
وفي ''شرح العقائد النسفیۃ''، والصراط حق، ص۱۰۵: (والصراط حق وھو جِسر، ممدود علی متن جھنم أدق من الشعر، وأحدّ من السیف یعبرہ أھل الجنۃ وتزل بہ أقدام أھل النار).
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۶۸: (الصراط جسر ممدود علی متن جہنم یردہ الأولون والآخرون لا طریق الجنۃ إلاّ علیہ، وہو أدق من الشعر وأحدّ من السیف).
3۔۔۔۔۔۔ ((فیضرب الصراط بین ظہراني جہنم فأکون أول من یجوز من الرسل بأمتہ ولا یتکلم یومئذ أحد إلا الرسل وکلام الرسل یومئذ: اللہم سلم سلم)). ''صحیح البخاري''، کتاب الأذان، فضل السجود، الحدیث: ۸۰۶، ج۱، ص۲۸۲.
وفي روایۃ: ((ویضرب الصراط بین ظہري جہنم، فأکون أنا وأمتي أوّل من یجیزہا ولا یتکلم یومئذ إلاّ الرسل، ودعوی الرسل یومئذ: اللہم سلم سلم)). ''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، الحدیث:۷۴۳۷، ج۴، ص۵۵۱.
في ''فتح الباري''، کتاب الرقاق، باب الصراط جسر جہنم، ج۱۱، ص۳۸۴، تحت الحدیث: ۶۵۷۳، تحت قول: ((فأکون أوّل من یجیز)) فإن فیہ إشارۃ إلی أَنَّ الْأَنْبِیَاء َ بَعْدَہُ یُجِیزُونَ أُمَمَہُمْ). وفیہ أیضاً، ص۳۸۷: (قال القرطبی: لمّا کان ہو وأمتہ أوّل من یجوز علی الصراط لزم تأخیر غیرہم عنھم حتی یجوز، فإذا جاز ہو وأمتہ فکأنّہ أجاز بقیۃ الناس)، ملتقطاً.