Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
146 - 278
    عقیدہ (۹): میزان حق ہے۔ اس پر لوگوں کے اعمال نیک و بد تولے جائیں گے (1)، نیکی کا پلّہ بھاری ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اوپر اُٹھے، دنیا کا سا معاملہ نہیں کہ جو بھاری ہوتا ہے نیچے کو جھکتا ہے۔ (2) 

    عقیدہ (۱۰): حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲ عزوجل مقامِ محمود عطا فرمائے گا، کہ تمام اوّلین وآخرین حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی حمد و ستائش کریں گے۔ (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في''منح الروض الأزہر''، ص۹۵: (وزن الأعمال بالمیزان یوم القیامۃ حق) لقولہ تعالی: (وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذِنِالْحَقُّ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُہُ فَاُولٰئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَاُولٰئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَہُمْ بِمَا کَانُوا بِاٰیَاتِنَا یَظْلِمُوْنَ)، إظہاراً لکمال الفضل وجمال العدل، کما قال اللہ سبحانہ وتعالی: (وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِہَا وَکَفٰی بِنَا حَاسِبِیْنَ).

2۔۔۔۔۔۔ (اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہ،)، پ۲۲، فاطر: ۱۰. 

    في ''تکمیل الإیمان''،ص ۷۸: (میزان آخرت برعکس میزان دنیا است، وعلامت ثقل ارتفاع کفہ بود وعلامت خفت انخفاض). یعنی: علماء فرماتے ہیں کہ:'' آخرت کی میزان کا بھاری پلڑہ دنیاوی ترازو کے برعکس ہوگا یعنی بھاری پلڑے کی علامت اس کے اونچے اور مرتفع ہونے اور ھلکے پلڑے کی علامت اس کے نیچے ہونے کی شکل میں ہوگا۔''

اعلی حضرت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ'' شریف میں فرماتے ہیں: ''وہ میزان یہاں کے ترازو کے خلاف ہے وہاں نیکیوں کا پلّہ اگر بھاری ہوگا تو اُوپر اٹھے گا اور بدی کا پلّہ نیچے بیٹھے گا، قال اللہ عزوجل: (اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہُ)، پ۲۲،فاطر:۱۰. ترجمہ: اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور جو نیک کام ہے وہ اسے بلند کرتا ہے (ت) ، جس کتاب میں لکھا ہے کہ نیکیوں کا پلہ نیچا ہوگا غلط ہے۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۲۹، ص۶۲۶.

3۔۔۔۔۔۔ (عََسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُودًا) پ۱۵، الإسرائ: ۷۹.

في ''الدر المنثور''، ج۵، ص۳۲۵، تحت الآیۃ: عن ابن عمر رضي اللہ عنھما قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ الشمس لتدنو حتی یبلغ العرق نصف الأذن، فبینما ہم کذلک استغاثوا بآدم علیہ السلام فیقول: لَسْتُ بصاحب ذلک، ثم موسی علیہ السلام فیقول: کذلک، ثم محمد صلی اللہ علیہ وسلم فیشفع، فیقضي اللہ بین الخلائق فیمشي حتی یأخذ بحلقۃ باب الجنۃ، فیومئذ یبعثہ اللہ مقاماً محموداً یحمدہ أھل الجمع کلّہم)).

وفي روایۃ: قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((۔۔۔۔۔۔وإني لأقوم المقام المحمود یوم القیامۃ فقال الأنصاري: وما ذاک المقام المحمود؟ قال: ذاک إذا جیء بکم عراۃ حفاۃ غرلا فیکون أول من یکسی إبراہیم علیہ السلام یقول: اکسوا خلیلی فیؤتی بریطتین بیضاوین فلیلبسھما ثم یقعد فیستقبل العرش ثم أوتی بکسوتی فألبسہا، فأقوم عن یمینہ مقاماً لا یقومہ أحد غیري، یغبطني بہ الأوّلون والآخرون))، ملتقطاً. ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۳۷۸۷، ج۲، ص۵۶.
Flag Counter