| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
اس امت میں وہ شخص بھی ہوگا، جس کے ننانوے دفتر گناہوں کے ہوں گے اور ہر دفتر اتنا ہوگا، جہاں تک نگاہ پہنچے، وہ سب کھولے جائیں گے، رب عزوجل فرمائے گا: ان میں سے کسی امر کا تجھے انکار تو نہیں ہے؟ میرے فرشتوں کراماً کاتبین نے تجھ پر ظلم تو نہیں کیا؟ عرض کریگا: نہیں اے رب! پھر فرمائے گا: تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ عرض کریگا: نہیں اے رب! فرمائے گا: ہاں تیری ایک نیکی ھمارے حضور میں ہے اور تجھ پر آج ظلم نہ ہوگا، اُس وقت ایک پرچہ جس میں
''أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ وَأَشْھَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ''
ہو گا نکالا جائے گا اور حکم ہوگا جا تُلوا، عرض کرے گا: اے رب! یہ پرچہ ان دفتروں کے سامنے کیا ہے؟ فرمائے گا: تجھ پر ظلم نہ ہوگا، پھر ایک پلّے پر یہ سب دفتر رکھے جائیں گے اور ایک میں وہ، وہ پرچہ ان دفتروں سے بھاری ہو جائے گا۔ (1) بالجملہ اس کی رحمت کی کوئی انتہا نہیں، جس پر رحم فرمائے، تھوڑی چیز بھی بہت کثیر ہے۔
عقیدہ (۷): قیامت کے دن ہر شخص کو اُس کانامہ اعمال دیا جائے گا(2) ، نیکوں کے دہنے ہاتھ میں اور بدوں کے بائیں ہاتھ میں(3)، کافر کا سینہ توڑ کر اُس کا بایاں ہاتھ اس سے پسِ پشت نکال کر پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ (4)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ عن أبي عبد الرحمن المعافريّ ثم الحبليّ قال: سمعت عبد اللہ بن عمرو بن العاص یقول: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ اللہ سیخلص رجلا من أمتي علی رؤوس الخلائق یوم القیامۃ، فینشرعلیہ تسعۃ وتسعین سجلاّ، کل سجل مثل مد البصر، ثم یقول: أتنکر من ھذاشیأا؟ أظلمک کتبتي الحافظون؟ یقول: لا یا رب! فیقول: أفلک عذر؟ فیقول: لا، یا ربّ! فیقول: بلی! إنّ لک عندناحسنۃ فإنّہ لا ظلم علیک الیوم، فیخرج بطاقۃ فیھا أشھد أن لا إلہ إلاّ اللہ وأشھد أنّ محمدًا عبدہ ورسولہ، فیقول: احضر وَزنک، فیقول: یا رب! ما ھذہ البطاقۃ مع ھذہ السجلات؟ فقال: فإنّک لا تظلم، قال: فتوضع السجلاّت في کفۃ والبطاقۃ في کفۃ فطاشت السجلات وثقلت البطاقۃ، ولا یثقل مع اسم اللہ شيئ)). ''سنن الترمذي''، کتاب الإیمان، باب ما جاء فیمن یموت وھو یشھد أن لا إلہ إلاّ اللہ، الحدیث: ۲۶۴۸، ج۴، ص۲۹۰۔۲۹۱.
2۔۔۔۔۔۔ (وَکُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰـہُ طَائِرَہُ فِیْ عُنُقِہِ وَنُخْرِجُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کِتَابًا یَّلْقَاہُ مَنْشُوْرًا اِقْرَاْ کِتَابَکَ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا) پ۱۵، بني إسرائیل: ۱۳۔۱۴.
3۔۔۔۔۔۔ (فَاَمَّا مَنْ اُوتِیَ کِتَابَہ، بِیَمِیْنِہٖ فَیَقُولُ ہَاؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتَابِیَہْ اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلَاقٍ حِسَابِیَہْ) پ۲۹، الحاقۃ: ۱۹۔۲۰. (وَاَمَّا مَنْ اُوتِیَ کِتَابَہ، بِشِمَالِہٖ فَیَقُولُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتَابِیَہْ) پ۲۹،الحاقۃ:۲۵.
عن أبي موسی الأشعري قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یعرض الناس یوم القیامۃ ثلاث عرضات، فأمّا عرضتان فجدال ومعاذیر، وأمّا الثالثۃ: فعند ذلک تطیر الصحف في الأیدي، فآخذ بیمینہ وآخذ بشمالہ)). سنن ابن ماجہ''، کتاب الزہد، باب ذکر البعث، الحدیث: ۴۲۷۷، ج۴، ص۵۰۶.
4۔۔۔۔۔۔ (وَاَمَّا مَنْ اُوتِیَ کِتَابَہ، وَرَاءَ ظَہْرِہٖ فَسَوْفَ یَدْعُوْ ثُبُوْرًا وَیَصْلٰی سَعِیْرًا). پ۳۰، انشقاق: ۱۰۔۱۲.
في ''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، ج۱۰، ص۱۹۲، تحت الآیۃ: (قال ابن عباس: یمد یدہ الیمنی لیأخذ کتابہ فیجذبہ