| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
گا: تو نے یہ کیا اور یہ کیا؟ عرض کریگا: ہاں اے رب! یہاں تک کہ تمام گناہوں کا اقرار لے لے گا، اب یہ اپنے دل میں سمجھے گا کہ اب گئے، فرمائے گا: کہ ہم نے دنیا میں تیرے عیب چھپائے اور اب بخشتے ہیں۔ (1) اور کسی سے سختی کے ساتھ ایک ایک بات کی باز پرس ہوگی، جس سے یوں سوال ہوا، وہ ھلاک ہوا۔ (2) کسی سے فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تجھے عزت نہ دی...؟! تجھے سردار نہ بنایا...؟! اور تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ وغیرہ کو مُسخّر نہ کیا...؟! ان کے علاوہ اور نعمتیں یاد دلائے گا، عر ض کریگا: ہاں! تُو نے سب کچھ دیا تھا، پھر فرمائے گا: تو کیا تیراخیال تھا کہ مجھ سے ملنا ہے؟ عرض کریگا کہ نہیں، فرمائے گا: تو جیسے تُو نے ہمیں یاد نہ کیا، ہم بھی تجھے عذاب میں چھوڑتے ہیں۔
بعض کافر ایسے بھی ہوں گے کہ جب نعمتیں یاد دلا کر فرمائے گا کہ تُو نے کیا کیا؟ عرض کریگا: تجھ پر اور تیری کتاب اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا، نماز پڑھی، روزے رکھے، صدقہ دیااو ر ان کے علاوہ جہاں تک ہوسکے گا، نیک کاموں کا ذکر کر جائے گا۔ ارشاد ہو گا: تو اچھا تُو ٹھہر جا! تجھ پر گواہ پیش کیے جائیں گے، یہ اپنے جی میں سوچے گا: مجھ پر کون گواہی دیگا...؟! اس وقت اس کے مونھ پرمُہرکر دی جائے گی اور اَعضا کو حکم ہوگا: بول چلو، اُس وقت اُس کی ران اور ہاتھ پاؤں، گوشت پوست، ہڈیاں سب گواہی دیں گے کہ یہ تو ایسا تھا ایسا تھا، وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (3)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ عن ابن عمر قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ اللہ یدني المؤمن، فیضع علیہ کَنَفَہ ویسترہ، فیقول: أتعرف ذنب کذا؟ أتعرف ذنب کذا؟ فیقول: نعم أي رب، حتی إذا قررہ بذنوبہ، ورأی في نفسہ أنّہ ھلک، قال: سترتھا علیک في الدنیا، وأنا أغفرھا لک الیوم، فیعطی کتاب حسناتہ)). ''صحیح البخاري''، کتاب المظالم، باب قول اللہ تعالٰی: (اَلَا لَعْنَۃُ اللہِ عَلٰی الظَّالِمِیْنَ)، الحدیث: ۲۴۴۱، ج۲، ص۱۲۶.
2۔۔۔۔۔۔ عن عائشۃ رضي اللہ عنہا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لیس أحد یحاسب إلاّ ھلک))، قالت: قلت: یا رسول اللہ جعلني اللہ فداء ک، ألیس یقول اللہ عز وجل: (فَاَمَّا مَنْ اُوتِیَ کِتٰـبَہُ بِیَمِیْنِہٖ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا)، [۷۔۸] قال: ((ذاک العرض یعرضون، ومن نوقش الحساب ھلک)). ''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، باب: (فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا)، الحدیث: ۴۹۳۹، ج۳، ص۳۷۵.
في ''فتح الباري''، کتاب الرقاق، تحت الحدیث: ۶۵۳۶، تحت قول: من نوقش الحساب عذّب: (والمراد بالمناقشۃ الاستقصاء في المحاسبۃ والمطالبۃ بالجلیل والحقیر وترک المسامحۃ، یقال انتقشت منہ حقي أي: استقصیتہ). ج۱۱، ص۳۴۲.
3۔۔۔۔۔۔ عن أبي ھریرۃ قال: قالوا: یا رسول اللہ! ھل نری ربنا یوم القیامۃ؟ قال: ((ھل تضارون في رؤیۃ الشمس في الظھیرۃ، لیست في سحابۃ؟)) قالوا: لا، قال: ((فھل تضارون في رؤیۃ القمر لیلۃ البدر لیس في سحابۃ؟)) قالوا: لا، قال: ((فوالذي نفسي