| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
عرض کریں گے: ہم نے آپ کے وضو کے لیے فلاں وقت میں پانی بھر دیا تھا(1)، کوئی کہے گا :کہ میں نے آپ کو استنجے کے لیے ڈھیلا دیا تھا (2)، علما اُن تک کی شفاعت کریں گے۔
عقیدہ (۵): حساب حق ہے، اعمال کا حساب ہونے والا ہے۔ (3)
عقیدہ (۶): حساب کا منکر کافر ہے (4)، کسی سے تو اس طرح حساب لیا جائے گا کہ خُفیۃً (5) اُس سے پوچھا جائےــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
= وأخرج أبو نعیم عن أبي أمامۃ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((ذراري المسلمین یوم القیامۃ تحت العرش شافعین ومشفعین)). ''البدور السافرۃ في الأمور الآخرۃ''، الحدیث: ۱۱۵۵۔۱۱۵۶، ص۳۶۲.
وفي روایۃ: ((ذراريّ المسلمین یوم القیامۃ تحت العرش شافع ومشفع من لم یبلغ ثنتی عشر سنۃ، ومن بلغ ثلاث عشرۃ سنۃ فعلیہ ولہ)). ''کنز العمال''، کتاب القیامۃ، الحدیث: ۳۹۳۰۱، ج۱۴، ص۲۰۰.
1۔۔۔۔۔۔ عن أنس بن مالک قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یصف الناس یوم القیامۃ صفوفا، وقال ابن نمیر: أھل الجنۃ، فیمر الرجل من أھل النار علی الرجل، فیقول: یا فلان! أما تذکر یوم استسقیت فسقیتک شربۃ؟، قال: فیشفع لہ، ویمر الرجل: فیقول أما تذکر یوم ناولتک طہورا، فیشفع لہ)).
''سنن ابن ماجہ''، کتاب الأدب، باب فضل صدقۃ المائ، الحدیث: ۳۶۸۵، ج۴، ص۱۹۶.
وفي روایۃ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((یصف أھل النار، فیمر بہم الرجل من أھل الجنۃ، فیقول الرجل منھم: یا فلان! أما تعرفني؟ أنا الذي سقیتک شربۃ. وقال بعضھم: أنا الذي وہبت لک وضوء اً، فیشفع لہ فیدخلہ الجنۃ)).''مشکاۃ المصابیح''، کتاب أحوال القیامۃ وبدء الخلق، ج۲، ص۳۲۷، الحدیث:۵۶۰۴.
2۔۔۔۔۔۔ في ''المرقاۃ''، ج۹، ص۵۶۹، تحت ہذہ الحدیث: (قال بعضھم: أنا الذي وہبت لک وَضوء اً بفتح الواو، أي: ماء وضوئ، وعلی ھذا القیاس من لقمۃ وخرقۃ أو نوع إعانۃ۔۔۔ إلخ).
3۔۔۔۔۔۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۰۴: (''والکتاب'' المثبت فیہ طاعات العباد ومعاصیہم یؤتی للمؤمنین بأیمانھم والکفار بشمائلہم ووراء ظہورہم ''حق''، لقولہ تعالی: (وَنُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کِتَابًا یَّلْقَاہُ مَنْشُورًا)وقولہ تعالی:(فَاَمَّا مَنْ اُوتِیَ کِتَابَہ، بِیَمِیْنِہٖ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا).
4۔۔۔۔۔۔ في ''منح الروض الأزہر'' للقاري، فصل في المرض والموت والقیامۃ، ص۱۹۵: (واعلم أنّ من أنکر القیامۃ أو الجنۃ أو النار أو المیزان أو الصراط أو الحساب أو الصحائف المکتوبۃ فیہا أعمال العباد یکفر، أي: لثبوتہا بالکتاب والسنۃ وإجماع الأمۃ).
وفي ''الشفا''، فصل في بیان ما ہو من المقالات کفر، ج۲، ص۲۹۰: (وکذلک من أنکر الجنۃ أو النار أو البعث أو الحساب أو القیامۃ فھو کافر بإجماع للنّص علیہ وإجماع الأمۃ علی صحۃ نقلہ متواتراً).
5۔۔۔۔۔۔ پوشیدہ۔